Poetry
- جو میری چھت کا رستہ چاند نے دیکھا نہیں ہوتاتو شاید چاندنی لے کر یہاں اترا نہیں ہوتاChitransh Khare (b. 1989)
- دونوں کی آرزو میں چمک برقرار ہےمیں اس طرف ہوں اور وہ دریا کے پار ہےChitransh Khare (b. 1989)
- کائنات آرزو میں ہم بسر کرنے لگےسب بہت نفرت سے کیوں ہم پر نظر کرنے لگےChitransh Khare (b. 1989)
- لوگ سارے بھلے نہیں ہوتےہاں مگر سب برے نہیں ہوتےChitransh Khare (b. 1989)
- محبت کی گلی سے ہم جہاں ہو کر نکل آئےہمارے حال پر کوئی بھی ہوتا جی نہیں پاتاChitransh Khare (b. 1989)
- ہمارے صبر کا اک امتحان باقی ہےاسی لئے تو ابھی تک یہ جان باقی ہےChitransh Khare (b. 1989)
- یہ حادثہ مری آنکھوں سے گر نہیں ہوتاتو کوئی غم بھی مرا ہم سفر نہیں ہوتاChitransh Khare (b. 1989)