Poetry
- اس چشم اشک بار کی ضد رائیگاں تو ہومیری فصیل صبر کا کوئی نشاں تو ہوCharagh Barelvi (b. 1988)
- بے سبب چاک پر دھرے تھے ہمبنتے بنتے بھی کیا بنے تھے ہمCharagh Barelvi (b. 1988)
- پیاس کو دریا رہا اور خاک کو صحرا رہااس کے معنی یہ ہوئے کے یہ سفر اچھا رہاCharagh Barelvi (b. 1988)
- جانے وہ چیز کیا تھی جو چمکی زمین پراجلے سے لوگ آ گرے میلی زمین پرCharagh Barelvi (b. 1988)
- جب تماشے کا نہ ہو چھوڑ کے آنے کا ملالکیوں ہو پھر کھیل کے آداب نبھانے کا ملالCharagh Barelvi (b. 1988)
- خود اپنے پاؤں کے نیچے بھنور بناتا ہوںمیں اک سرائے کو ہر روز گھر بناتا ہوںCharagh Barelvi (b. 1988)
- ڈوبتے وقت جو کچھ ہاتھ میں گوہر آئےسب کے سب ناخدا کے ہاتھ میں ہم دھر آئےCharagh Barelvi (b. 1988)
- راستے گھر تمام پتھر کےہر طرف تام جھام پتھر کےCharagh Barelvi (b. 1988)
- سچ چھپاتی رہی ہوا یعنیدشت کا حال اور تھا یعنیCharagh Barelvi (b. 1988)
- طے ہوا دن کہ کھلے شام کے بستر چلیےپاؤں کو حکم تھکن کا ہے کہ اب گھر چلیےCharagh Barelvi (b. 1988)
- ہم کو رکھنی تھی سو اک چاک پہ رکھ دی مٹیکوزہ گر جانے کہ کس شکل ڈھلے گی مٹیCharagh Barelvi (b. 1988)
- یوں بھی میرا بیاں الگ ہے کچھکیوں کہ میری زباں الگ ہے کچھCharagh Barelvi (b. 1988)