Poetry

Poet
Meter
Clear
  1. اس چشم اشک بار کی ضد رائیگاں تو ہومیری فصیل صبر کا کوئی نشاں تو ہوCharagh Barelvi (b. 1988)
  2. بے سبب چاک پر دھرے تھے ہمبنتے بنتے بھی کیا بنے تھے ہمCharagh Barelvi (b. 1988)
  3. پیاس کو دریا رہا اور خاک کو صحرا رہااس کے معنی یہ ہوئے کے یہ سفر اچھا رہاCharagh Barelvi (b. 1988)
  4. جانے وہ چیز کیا تھی جو چمکی زمین پراجلے سے لوگ آ گرے میلی زمین پرCharagh Barelvi (b. 1988)
  5. جب تماشے کا نہ ہو چھوڑ کے آنے کا ملالکیوں ہو پھر کھیل کے آداب نبھانے کا ملالCharagh Barelvi (b. 1988)
  6. خود اپنے پاؤں کے نیچے بھنور بناتا ہوںمیں اک سرائے کو ہر روز گھر بناتا ہوںCharagh Barelvi (b. 1988)
  7. ڈوبتے وقت جو کچھ ہاتھ میں گوہر آئےسب کے سب ناخدا کے ہاتھ میں ہم دھر آئےCharagh Barelvi (b. 1988)
  8. راستے گھر تمام پتھر کےہر طرف تام جھام پتھر کےCharagh Barelvi (b. 1988)
  9. سچ چھپاتی رہی ہوا یعنیدشت کا حال اور تھا یعنیCharagh Barelvi (b. 1988)
  10. طے ہوا دن کہ کھلے شام کے بستر چلیےپاؤں کو حکم تھکن کا ہے کہ اب گھر چلیےCharagh Barelvi (b. 1988)
  11. ہم کو رکھنی تھی سو اک چاک پہ رکھ دی مٹیکوزہ گر جانے کہ کس شکل ڈھلے گی مٹیCharagh Barelvi (b. 1988)
  12. یوں بھی میرا بیاں الگ ہے کچھکیوں کہ میری زباں الگ ہے کچھCharagh Barelvi (b. 1988)