Poetry
- افق سایہ سفر دھوکا قدم کرتببس اک ٹھوکر ہے اور یہ گرد زار شبChandra Parkash Shad
- بدن کو اپنی بساط تک تو پسارنا تھاہر ایک شے کو لہو کے رستے گزارنا تھاChandra Parkash Shad
- پچھلے سفر کا عکس زیاں میرے سامنےسب بستیاں دھواں ہی دھواں میرے سامنےChandra Parkash Shad
- دل سے اک آگ کی دیوار ابھرتی جائےزینہ زینہ شب تنہائی اترتی جائےChandra Parkash Shad
- سبھی سمتوں کو ٹھکرا کر اڑی جائےکہاں تک جانے گرد گم رہی جائےChandra Parkash Shad
- کبھی ہوا نے کبھی اڑتے پتھروں نے کیاہمیں تو نشر عجب سی وضاحتوں نے کیاChandra Parkash Shad
- کیسا وہ موسم تھا یہ تو سمجھ نہ پائے ہمشاخ سے جیسے پھل ٹوٹے کچھ یوں لہرائے ہمChandra Parkash Shad
- ہر اک امکان تک پسپائی ہے اپنیاور اس کے بعد صف آرائی ہے اپنیChandra Parkash Shad