Poetry

Poet
Meter
Clear
  1. افق سایہ سفر دھوکا قدم کرتببس اک ٹھوکر ہے اور یہ گرد زار شبChandra Parkash Shad
  2. بدن کو اپنی بساط تک تو پسارنا تھاہر ایک شے کو لہو کے رستے گزارنا تھاChandra Parkash Shad
  3. پچھلے سفر کا عکس زیاں میرے سامنےسب بستیاں دھواں ہی دھواں میرے سامنےChandra Parkash Shad
  4. دل سے اک آگ کی دیوار ابھرتی جائےزینہ زینہ شب تنہائی اترتی جائےChandra Parkash Shad
  5. سبھی سمتوں کو ٹھکرا کر اڑی جائےکہاں تک جانے گرد گم رہی جائےChandra Parkash Shad
  6. کبھی ہوا نے کبھی اڑتے پتھروں نے کیاہمیں تو نشر عجب سی وضاحتوں نے کیاChandra Parkash Shad
  7. کیسا وہ موسم تھا یہ تو سمجھ نہ پائے ہمشاخ سے جیسے پھل ٹوٹے کچھ یوں لہرائے ہمChandra Parkash Shad
  8. ہر اک امکان تک پسپائی ہے اپنیاور اس کے بعد صف آرائی ہے اپنیChandra Parkash Shad