Poetry
- ایک مدت سے اسے دیکھا نہیںاب مگر کاجل مرا بہتا نہیںChandni Pandey (b. 1974)
- جلے چراغ بجھانے کی ضد نہیں کرتےاب آ گئے ہو تو جانے کی ضد نہیں کرتےChandni Pandey (b. 1974)
- ختم ہے بادل کی جب سے سائبانی دھوپ میںآگ ہوتی جا رہی ہے زندگانی دھوپ میںChandni Pandey (b. 1974)
- دکھوں کی جھیل نہیں ہے تو زندگی کیا ہےہر ایک آنکھ میں ہر وقت یہ نمی کیا ہےChandni Pandey (b. 1974)
- زندگی کی یہی کہانی ہےسانس آنی ہے اور جانی ہےChandni Pandey (b. 1974)
- عمر کے لمبے سفر سے تجربہ ایسا ملادھوپ جب بھی سر پہ آئی لاپتا سایہ ملاChandni Pandey (b. 1974)
- کھو گیا ہے جو اس کو کھونے دوپھر نیا خواب مجھ کو بونے دوChandni Pandey (b. 1974)
- مجھے تلاش تھی جس کی وہی کبھی نہ ملیہر ایک چیز ملی ایک زندگی نہ ملیChandni Pandey (b. 1974)
- مسلسل تھی مری خانہ بدوشیبہت چبھتی رہی خانہ بدوشیChandni Pandey (b. 1974)
- مکدر ہی تھا کچھ ایسا ہماراسفر کٹتا رہا تنہا ہماراChandni Pandey (b. 1974)
- نئی پوشاک پہنے ہے پرانے خواب کی حسرتمیں ہنس کر ٹال دیتی ہوں دل بیتاب کی حسرتChandni Pandey (b. 1974)
- وہ کاش مان لیتا کبھی ہم سفر مجھےتو راستو کے پیچ کا ہوتا نہ ڈر مجھےChandni Pandey (b. 1974)
- وہ ہوا ہی نہیں جو سوچا تھامیرا ہو کر بھی کب وہ میرا تھاChandni Pandey (b. 1974)
- ہمیں بربادیوں پہ مسکرانا خوب آتا ہےاندھیری رات میں دیپک جلانا خوب آتا ہےChandni Pandey (b. 1974)
- یہ محبت جو محبت سے کمائی ہوئی ہےآگ سینہ میں اسی نے تو لگائی ہوئی ہےChandni Pandey (b. 1974)