دکھوں کی جھیل نہیں ہے تو زندگی کیا ہے
Chandni Pandey (b. 1974)دکھوں کی جھیل نہیں ہے تو زندگی کیا ہے
ہر ایک آنکھ میں ہر وقت یہ نمی کیا ہے
لٹک رہی ہوں میں اب تک صلیب پر اس کی
حیات مجھ سے بھلا اور چاہتی کیا ہے
چہکتی شام تو کترا کے مجھ سے گزری تھی
گزر گئی ہے تو مڑ مڑ کے دیکھتی کیا ہے
خوشی سے اپنی انا میں ہیں قید ہم ایسے
ہمیں خبر بھی نہیں ہے کے زندگی کیا ہے
تمہارے لمس کا مجھ میں اگر خمار نہیں
تو میری جاگتی آنکھوں میں نیند سی کیا ہے