مسلسل تھی مری خانہ بدوشی
Chandni Pandey (b. 1974)مسلسل تھی مری خانہ بدوشی
بہت چبھتی رہی خانہ بدوشی
ہر اک محفل میں اس کو ڈھونڈنے سے
ملی نظروں کو بھی خانہ بدوشی
میں گھر میں رہ کے بھی گھر میں نہیں تھی
عجب سی تھی کوئی خانہ بدوشی
کبھی تو آ کے مجھ میں جذب ہو جا
فنا کر دے مری خانہ بدوشی
بہت کچھ ٹوٹتا ہے پہلے اندر
نہیں ملتی یوں ہی خانہ بدوشی
میں ہر اک زاویے سے سوچتی ہوں
مجھے کیوں کر ملی خانہ بدوشی