Poetry
- اب تو خوابوں کے ہی سہارے ہیںیہ ہی لے دے کے اب ہمارے ہیںChander Wahid (b. 1958)
- احساس پہ بوجھل کچھ صدمات کا قصہ ہےغم صرف تخیل کے لمحات کا قصہ ہےChander Wahid (b. 1958)
- بازار جہالت میں سخن بیچ رہا ہوںیہ گیت یہ نغمات یہ فن بیچ رہا ہوںChander Wahid (b. 1958)
- دن ڈھلا بڑھنے لگیں پرچھائیاںپھر وہی غم پھر وہی تنہائیاںChander Wahid (b. 1958)
- صورت اتر نہ جائے کہیں ماہتاب کیکہہ دو کہ بات جھوٹ ہے ان کے شباب کیChander Wahid (b. 1958)
- لمحہ وہ تیری یاد کا ایسے گزر گیاجیسے کہ پھول شاخ سے ٹوٹا بکھر گیاChander Wahid (b. 1958)
- مجھ پہ مضراب تو ہے ساز کہاں سے لاؤںدل میں گھر کرنے کے انداز کہاں سے لاؤںChander Wahid (b. 1958)
- میری راہوں میں ترے نقش قدم رہنے دےمجھ پہ للہ محض اتنا کرم رہنے دےChander Wahid (b. 1958)
- وہ دیکھنے میں فقط راستے کا پتھر ہےہزار راہبروں سے مگر وہ بہتر ہےChander Wahid (b. 1958)
- یادوں کا درد دل میں ہے کچھ یوں ابھار پرجیسے اگا ہوں ننھا سا پودا مزار پرChander Wahid (b. 1958)