Poetry
- اب تو زیبا نہیں اے رند گلہ بھی تیراجام ساقی نے سر بزم بھرا بھی تیراBahzad Fatami (b. 1914)
- بے زر کی بے زری کا مزا ہم سے پوچھئےکیسا ہے مفلسی کا مزا ہم سے پوچھئےBahzad Fatami (b. 1914)
- پانی کہیں نہ سایہ کسی رہگزر میں تھاسر پر کڑی تھی دھوپ مسافر سفر میں تھاBahzad Fatami (b. 1914)
- ذرا سی بات کا دل کو ملال آ ہی گیالگی جو ٹھیس تو شیشے پہ بال آ ہی گیاBahzad Fatami (b. 1914)
- شعور فکر ہونا یا کہ ادراک سخن ہوناعطائے خاص قدرت ہے کسی کا اہل فن ہوناBahzad Fatami (b. 1914)
- کیا کیجئے جو قدر شرافت نہیں رہیشاید کسی کو اس کی ضرورت نہیں رہیBahzad Fatami (b. 1914)
- مری تلاش کا آخر صلہ کہیں تو ملےتمہارے نقش قدم کا پتا کہیں تو ملےBahzad Fatami (b. 1914)
- وجہ شہرت تیری آشفتہ سری میری ہےشہر تیرا ہی سہی در بدری میری ہےBahzad Fatami (b. 1914)
- ہم نشیں کچھ تو علاج دل شیدا کر دےزندگی کو نہ مری نذر تماشا کر دےBahzad Fatami (b. 1914)
- یہ بیداد بہار فتنہ ساماں کون دیکھے گابھری برسات میں جلتا گلستاں کون دیکھے گاBahzad Fatami (b. 1914)
- یہ دن کی دھوپ تمہاری نظر کا دھوکا ہےچراغ شب کے جلاؤ کہ گھپ اندھیرا ہےBahzad Fatami (b. 1914)