کیا کیجئے جو قدر شرافت نہیں رہی

Bahzad Fatami (b. 1914)

کیا کیجئے جو قدر شرافت نہیں رہی

شاید کسی کو اس کی ضرورت نہیں رہی

دامن کشاں گزرتے ہیں اک دوسرے سے لوگ

پہلی سی اب وہ رسم مروت نہیں رہی

شاداب تھے جو پھول تو خوشبو لٹاتے تھے

پژمردہ ہو گئے تو سخاوت نہیں رہی

بتلا دیا ہے ہم کو فسادات نے یہی

خون بشر کی اب کوئی قیمت نہیں رہی