Poetry

Poet
Meter
Clear
  1. آگ لگا دی پہلے گلوں نے باغ میں وہ شادابی کیآئی خزاں گل زار میں جب گلبرگ سے گلخن تابی کیآغا حجو شرف
  2. اڑ کر سراغ کوچۂ دلبر لگائیےکس طرح دونوں بازوؤں میں پر لگائیےآغا حجو شرف
  3. الٰہی خیر جو شر واں نہیں تو یاں بھی نہیںتأمل اس میں اگر واں نہیں تو یاں بھی نہیںآغا حجو شرف
  4. بلبل کا دل خزاں کے صدمے سے ہل رہا ہےگل زار کا مرقع مٹی میں مل رہا ہےآغا حجو شرف
  5. پر نور جس کے حسن سے مدفن تھا کون تھاچہرہ یہ کس شہید کا روشن تھا کون تھاآغا حجو شرف
  6. پری پیکر جو مجھ وحشی کا پیراہن بناتے ہیںگریباں چاک کر دیتے ہیں بے دامن بناتے ہیںآغا حجو شرف
  7. ترچھی نظر نہ ہو طرف دل تو کیا کروںلیلیٰ کے ناپسند ہو محمل تو کیا کروںآغا حجو شرف
  8. تری گلی میں جو دھونی رمائے بیٹھے ہیںاجل رسیدہ ہیں مرنے کو آئے بیٹھے ہیںآغا حجو شرف
  9. تری ہوس میں جو دل سے پوچھا نکل کے گھر سے کدھر کو چلیےتڑپ کے بولا جدھر وہ نکلے شتاب اسی رہ گزر کو چلیےآغا حجو شرف
  10. تیر نظر سے چھد کے دل افگار ہی رہاناسور اس میں صورت سوفار ہی رہاآغا حجو شرف
  11. تیرے عالم کا یار کیا کہناہر طرف ہے پکار کیا کہناآغا حجو شرف
  12. جشن تھا عیش و طرب کی انتہا تھی میں نہ تھایار کے پہلو میں خالی میری جا تھی میں نہ تھاآغا حجو شرف
  13. جوانی آئی مراد پر جب امنگ جاتی رہی بشر کینصیب ہوتے ہی چودھویں شب شکوہ رخصت ہوئی قمر کیآغا حجو شرف
  14. جو سامنا بھی کبھی یار خوب رو سے ہوازمانے بھر کا یرش مجھ پہ چار سو سے ہواآغا حجو شرف
  15. چاہئیں مجھ کو نہیں زریں قفس کی پتلیاںآشیاں جانوں جو ہوویں خار و خس کی پتلیاںآغا حجو شرف
  16. چلتے ہیں گلشن فردوس میں گھر لیتے ہیںطے یہ منزل جو خدا چاہے تو کر لیتے ہیںآغا حجو شرف
  17. خدا معلوم کس کی چاند سے تصویر مٹی کیجو گورستاں میں حسرت ہے گریباں گیر مٹی کیآغا حجو شرف
  18. درپیش اجل ہے گنج شہیداں خریدیےتربت کے واسطے چمنستاں خریدیےآغا حجو شرف
  19. دل کو افسوس جوانی ہے جوانی اب کہاںکوئی دم میں چل بسیں گے زندگانی اب کہاںآغا حجو شرف
  20. دل کو لٹکا لیا ہے گیسو میںجب وہ بیٹھیں ہیں آ کے پہلو میںآغا حجو شرف
  21. رلوا کے مجھ کو یار گنہ گار کر نہیںآنکھیں ہیں تر تو ہوں مرا دامن تو تر نہیںآغا حجو شرف
  22. رنگ جن کے مٹ گئے ہیں ان میں یار آنے کو ہےدھوم ہے پژمردہ پھولوں میں بہار آنے کو ہےآغا حجو شرف
  23. رہا کرتے ہیں یوں عشاق تیری یاد و حسرت میںبسے رہتے ہیں جیسے پھول اپنی اپنی نکہت میںآغا حجو شرف
  24. سلف سے لوگ ان پہ مر رہے ہیں ہمیشہ جانیں لیا کریں گےیہی کرشمے ہوا کیے ہیں یہی کرشمے ہوا کریں گےآغا حجو شرف
  25. سناٹے کا عالم قبر میں ہے ہے خواب عدم آرام نہیںامکان نمود صبح نہیں امید چراغ شام نہیںآغا حجو شرف
  26. عالم میں ہرے ہوں گے اشجار جو میں رویاگلچیں نہیں سینچیں گے گل زار جو میں رویاآغا حجو شرف
  27. عشق دہن میں گزری ہے کیا کچھ نہ پوچھئےنا گفتنی ہے حال مرا کچھ نہ پوچھئےآغا حجو شرف
  28. کس کے ہاتھوں بک گیا کس کے خریداروں میں ہوںکیا ہے کیوں مشہور میں سودائی بازاروں میں ہوںآغا حجو شرف
  29. گدائے دولت دیدار یار ہم بھی ہیںہمیں نہ بھولیو امیدوار ہم بھی ہیںآغا حجو شرف
  30. گھستے گھستے پاؤں میں زنجیر آدھی رہ گئیآدھی چھٹنے کی ہوئی تدبیر آدھی رہ گئیآغا حجو شرف
  31. لٹاتے ہیں وہ باغ عشق جائے جس کا جی چاہےگل داغ تمنا لوٹ لائے جس کا جی چاہےآغا حجو شرف
  32. موسم گل میں جو گھر گھر کے گھٹائیں آئیںہوش اڑ جاتے ہیں جن سے وہ ہوائیں آئیںآغا حجو شرف
  33. ناحق و حق کا انہیں خوف و خطر کچھ بھی نہیںبے خبر ہیں وہ زمانے کی خبر کچھ بھی نہیںآغا حجو شرف
  34. وہ رنگت تو نے اے گل رو نکالینچھاور کو گلوں نے بو نکالیآغا حجو شرف
  35. ہم ہیں اے یار چڑھائے ہوئے پیمانۂ عشقترے متوالے ہیں مشہور ہیں مستانۂ عشقآغا حجو شرف
  36. ہوا ہے طور بربادی جو بے دستور پہلو میںدل بے تاب کو رہتا ہے نامنظور پہلو میںآغا حجو شرف
  37. ہوس گل زار کی مثل عنادل ہم بھی رکھتے تھےکبھی تھا شوق گل ہم کو کبھی دل ہم بھی رکھتے تھےآغا حجو شرف
  38. ہوئے ایسے بہ دل ترے شیفتہ ہم دل و جاں کو ہمیشہ نثار کیارہ عشق سے پھر نہ ہٹائے قدم رہے محو ترے تجھے پیار کیاآغا حجو شرف
  39. پایا ترے کشتوں نے جو میدان بیاباںشان چمن خلد ہوئی شان بیاباںآغا حجو شرف
  40. ترے واسطے جان پہ کھلیں گے ہم یہ سمائی ہے دل میں خدا کی قسمرہ عشق سے اب نہ ہٹیں گے قدم ہمیں اپنے ہی صدق و صفا کی قسمآغا حجو شرف
  41. تلاش قبر میں یوں گھر سے ہم نکل کے چلےکفن بغل میں لیا منہ پہ خاک مل کے چلےآغا حجو شرف
  42. جب سے ہوا ہے عشق ترے اسم ذات کاآنکھوں میں پھر رہا ہے مرقع نجات کاآغا حجو شرف
  43. فصل گل میں ہے ارادہ سوئے صحرا اپنارنگ کیا دیکھیے دکھلاتا ہے سودا اپناآغا حجو شرف