Poetry
- آگ لگا دی پہلے گلوں نے باغ میں وہ شادابی کیآئی خزاں گل زار میں جب گلبرگ سے گلخن تابی کیآغا حجو شرف
- اڑ کر سراغ کوچۂ دلبر لگائیےکس طرح دونوں بازوؤں میں پر لگائیےآغا حجو شرف
- الٰہی خیر جو شر واں نہیں تو یاں بھی نہیںتأمل اس میں اگر واں نہیں تو یاں بھی نہیںآغا حجو شرف
- بلبل کا دل خزاں کے صدمے سے ہل رہا ہےگل زار کا مرقع مٹی میں مل رہا ہےآغا حجو شرف
- پر نور جس کے حسن سے مدفن تھا کون تھاچہرہ یہ کس شہید کا روشن تھا کون تھاآغا حجو شرف
- پری پیکر جو مجھ وحشی کا پیراہن بناتے ہیںگریباں چاک کر دیتے ہیں بے دامن بناتے ہیںآغا حجو شرف
- ترچھی نظر نہ ہو طرف دل تو کیا کروںلیلیٰ کے ناپسند ہو محمل تو کیا کروںآغا حجو شرف
- تری گلی میں جو دھونی رمائے بیٹھے ہیںاجل رسیدہ ہیں مرنے کو آئے بیٹھے ہیںآغا حجو شرف
- تری ہوس میں جو دل سے پوچھا نکل کے گھر سے کدھر کو چلیےتڑپ کے بولا جدھر وہ نکلے شتاب اسی رہ گزر کو چلیےآغا حجو شرف
- تیر نظر سے چھد کے دل افگار ہی رہاناسور اس میں صورت سوفار ہی رہاآغا حجو شرف
- تیرے عالم کا یار کیا کہناہر طرف ہے پکار کیا کہناآغا حجو شرف
- جشن تھا عیش و طرب کی انتہا تھی میں نہ تھایار کے پہلو میں خالی میری جا تھی میں نہ تھاآغا حجو شرف
- جوانی آئی مراد پر جب امنگ جاتی رہی بشر کینصیب ہوتے ہی چودھویں شب شکوہ رخصت ہوئی قمر کیآغا حجو شرف
- جو سامنا بھی کبھی یار خوب رو سے ہوازمانے بھر کا یرش مجھ پہ چار سو سے ہواآغا حجو شرف
- چاہئیں مجھ کو نہیں زریں قفس کی پتلیاںآشیاں جانوں جو ہوویں خار و خس کی پتلیاںآغا حجو شرف
- چلتے ہیں گلشن فردوس میں گھر لیتے ہیںطے یہ منزل جو خدا چاہے تو کر لیتے ہیںآغا حجو شرف
- خدا معلوم کس کی چاند سے تصویر مٹی کیجو گورستاں میں حسرت ہے گریباں گیر مٹی کیآغا حجو شرف
- درپیش اجل ہے گنج شہیداں خریدیےتربت کے واسطے چمنستاں خریدیےآغا حجو شرف
- دل کو افسوس جوانی ہے جوانی اب کہاںکوئی دم میں چل بسیں گے زندگانی اب کہاںآغا حجو شرف
- دل کو لٹکا لیا ہے گیسو میںجب وہ بیٹھیں ہیں آ کے پہلو میںآغا حجو شرف
- رلوا کے مجھ کو یار گنہ گار کر نہیںآنکھیں ہیں تر تو ہوں مرا دامن تو تر نہیںآغا حجو شرف
- رنگ جن کے مٹ گئے ہیں ان میں یار آنے کو ہےدھوم ہے پژمردہ پھولوں میں بہار آنے کو ہےآغا حجو شرف
- رہا کرتے ہیں یوں عشاق تیری یاد و حسرت میںبسے رہتے ہیں جیسے پھول اپنی اپنی نکہت میںآغا حجو شرف
- سلف سے لوگ ان پہ مر رہے ہیں ہمیشہ جانیں لیا کریں گےیہی کرشمے ہوا کیے ہیں یہی کرشمے ہوا کریں گےآغا حجو شرف
- سناٹے کا عالم قبر میں ہے ہے خواب عدم آرام نہیںامکان نمود صبح نہیں امید چراغ شام نہیںآغا حجو شرف
- عالم میں ہرے ہوں گے اشجار جو میں رویاگلچیں نہیں سینچیں گے گل زار جو میں رویاآغا حجو شرف
- عشق دہن میں گزری ہے کیا کچھ نہ پوچھئےنا گفتنی ہے حال مرا کچھ نہ پوچھئےآغا حجو شرف
- کس کے ہاتھوں بک گیا کس کے خریداروں میں ہوںکیا ہے کیوں مشہور میں سودائی بازاروں میں ہوںآغا حجو شرف
- گدائے دولت دیدار یار ہم بھی ہیںہمیں نہ بھولیو امیدوار ہم بھی ہیںآغا حجو شرف
- گھستے گھستے پاؤں میں زنجیر آدھی رہ گئیآدھی چھٹنے کی ہوئی تدبیر آدھی رہ گئیآغا حجو شرف
- لٹاتے ہیں وہ باغ عشق جائے جس کا جی چاہےگل داغ تمنا لوٹ لائے جس کا جی چاہےآغا حجو شرف
- موسم گل میں جو گھر گھر کے گھٹائیں آئیںہوش اڑ جاتے ہیں جن سے وہ ہوائیں آئیںآغا حجو شرف
- ناحق و حق کا انہیں خوف و خطر کچھ بھی نہیںبے خبر ہیں وہ زمانے کی خبر کچھ بھی نہیںآغا حجو شرف
- وہ رنگت تو نے اے گل رو نکالینچھاور کو گلوں نے بو نکالیآغا حجو شرف
- ہم ہیں اے یار چڑھائے ہوئے پیمانۂ عشقترے متوالے ہیں مشہور ہیں مستانۂ عشقآغا حجو شرف
- ہوا ہے طور بربادی جو بے دستور پہلو میںدل بے تاب کو رہتا ہے نامنظور پہلو میںآغا حجو شرف
- ہوس گل زار کی مثل عنادل ہم بھی رکھتے تھےکبھی تھا شوق گل ہم کو کبھی دل ہم بھی رکھتے تھےآغا حجو شرف
- ہوئے ایسے بہ دل ترے شیفتہ ہم دل و جاں کو ہمیشہ نثار کیارہ عشق سے پھر نہ ہٹائے قدم رہے محو ترے تجھے پیار کیاآغا حجو شرف
- پایا ترے کشتوں نے جو میدان بیاباںشان چمن خلد ہوئی شان بیاباںآغا حجو شرف
- ترے واسطے جان پہ کھلیں گے ہم یہ سمائی ہے دل میں خدا کی قسمرہ عشق سے اب نہ ہٹیں گے قدم ہمیں اپنے ہی صدق و صفا کی قسمآغا حجو شرف
- تلاش قبر میں یوں گھر سے ہم نکل کے چلےکفن بغل میں لیا منہ پہ خاک مل کے چلےآغا حجو شرف
- جب سے ہوا ہے عشق ترے اسم ذات کاآنکھوں میں پھر رہا ہے مرقع نجات کاآغا حجو شرف
- فصل گل میں ہے ارادہ سوئے صحرا اپنارنگ کیا دیکھیے دکھلاتا ہے سودا اپناآغا حجو شرف