Poetry
- ایک اک لمحے کو پلکوں پہ سجاتا ہوا گھرراس آتا ہے کسے ہجر مناتا ہوا گھرAadil Raza Mansoori (b. 1978)
- پاؤں پتوں پہ دھیرے سے دھرتا ہواوہ گزر جائے گا یوں ہی ڈرتا ہواAadil Raza Mansoori (b. 1978)
- جو اشک بن کے ہماری پلک پہ بیٹھا تھاتمہیں بھی یاد ہے اب تک وہ خواب کس کا تھاAadil Raza Mansoori (b. 1978)
- چاند تارے بنا کے کاغذ پرخوش ہوئے گھر سجا کے کاغذ پرAadil Raza Mansoori (b. 1978)
- دن کے سینے پہ شام کا پتھرایک پتھر پہ دوسرا پتھرAadil Raza Mansoori (b. 1978)
- راستے سکھاتے ہیں کس سے کیا الگ رکھنامنزلیں الگ رکھنا قافلہ الگ رکھناAadil Raza Mansoori (b. 1978)
- سفر کے بعد بھی مجھ کو سفر میں رہنا ہےنظر سے گرنا بھی گویا خبر میں رہنا ہےAadil Raza Mansoori (b. 1978)
- وہاں شاید کوئی بیٹھا ہوا ہےابھی کھڑکی میں اک جلتا دیا ہےAadil Raza Mansoori (b. 1978)
- نہیں مٹتیکسی کی بھوکAadil Raza Mansoori (b. 1978)
- اس کے ہرے رہنےسوکھنےAadil Raza Mansoori (b. 1978)
- اک پتی کےٹوٹنے گرنے کی آواز سےAadil Raza Mansoori (b. 1978)
- بجا ہے کہبارشوں سے پہلے بھیAadil Raza Mansoori (b. 1978)
- بکھر گیاہوا کے تھپیڑے سےAadil Raza Mansoori (b. 1978)
- پسند آئے گاآہنگAadil Raza Mansoori (b. 1978)
- جہاں سےہوا تھاAadil Raza Mansoori (b. 1978)
- سمٹ آئے ہیںساتوں سمندرAadil Raza Mansoori (b. 1978)
- لٹکا دیادنAadil Raza Mansoori (b. 1978)
- پلٹ کر دیکھ بھر سکتی ہیںبھیڑیںAadil Raza Mansoori (b. 1978)
- ہر روزبدل جاتا ہے کچھ نہ کچھAadil Raza Mansoori (b. 1978)