Poetry
Poet
Meter
- کونسل میں نکتہ چینوں کی ٹولی بہت پٹیاچھا ہوا سنبھل گئی اب یونیورسٹیAkbar Allahabadi (1846–1921)
- آم نامہAkbar Allahabadi (1846–1921)
- نہ قید شرع باقی ہے نہ آزادی کی ہے کچھ حدنہیں کچھ گفتگو اس باب میں یہ نیک ہے یا بدAkbar Allahabadi (1846–1921)
- نئی تہذیبAkbar Allahabadi (1846–1921)
- آسماں کی چھت بہت نیچی سر نخوت کو ہےکبر سے کہہ دو کہ دنیا میں ابھرنا دیکھ کرAkbar Allahabadi (1846–1921)
- اب تو ہے عشق بتاں میں زندگانی کا مزہجب خدا کا سامنا ہوگا تو دیکھا جائے گاAkbar Allahabadi (1846–1921)
- اس قدر تھا کھٹملوں کا چارپائی میں ہجوموصل کا دل سے مرے ارمان رخصت ہو گیاAkbar Allahabadi (1846–1921)
- اکبر دبے نہیں کسی سلطاں کی فوج سےلیکن شہید ہو گئے بیوی کی نوج سےAkbar Allahabadi (1846–1921)
- الٰہی کیسی کیسی صورتیں تو نے بنائی ہیںکہ ہر صورت کلیجے سے لگا لینے کے قابل ہےAkbar Allahabadi (1846–1921)
- بتاؤں آپ کو مرنے کے بعد کیا ہوگاپلاؤ کھائیں گے احباب فاتحہ ہوگاAkbar Allahabadi (1846–1921)
- جب غم ہوا چڑھا لیں دو بوتلیں اکٹھیملا کی دوڑ مسجد اکبرؔ کی دوڑ بھٹیAkbar Allahabadi (1846–1921)
- جب میں کہتا ہوں کہ یا اللہ میرا حال دیکھحکم ہوتا ہے کہ اپنا نامۂ اعمال دیکھAkbar Allahabadi (1846–1921)
- جو کہا میں نے کہ پیار آتا ہے مجھ کو تم پرہنس کے کہنے لگا اور آپ کو آتا کیا ہےAkbar Allahabadi (1846–1921)
- جو وقت ختنہ میں چیخا تو نائی نے کہا ہنس کرمسلمانی میں طاقت خون ہی بہنے سے آتی ہےAkbar Allahabadi (1846–1921)
- حقیقی اور مجازی شاعری میں فرق یہ پایاکہ وہ جامے سے باہر ہے یہ پاجامے سے باہر ہےAkbar Allahabadi (1846–1921)
- خدا سے مانگ جو کچھ مانگنا ہے اے اکبرؔیہی وہ در ہے کہ ذلت نہیں سوال کے بعدAkbar Allahabadi (1846–1921)
- دھمکا کے بوسے لوں گا رخ رشک ماہ کاچندا وصول ہوتا ہے صاحب دباؤ سےAkbar Allahabadi (1846–1921)
- رقیبوں نے رپٹ لکھوائی ہے جا جا کے تھانے میںکہ اکبرؔ نام لیتا ہے خدا کا اس زمانے میںAkbar Allahabadi (1846–1921)
- رہتا ہے عبادت میں ہمیں موت کا کھٹکاہم یاد خدا کرتے ہیں کر لے نہ خدا یادAkbar Allahabadi (1846–1921)
- سنیں تو آپ قناعت کے غل مچانے کووہ کہہ رہی ہے نہ چھوڑو غریب خانے کوAkbar Allahabadi (1846–1921)
- شیخ اپنی رگ کو کیا کریں ریشے کو کیا کریںمذہب کے جھگڑے چھوڑیں تو پیشے کو کیا کریںAkbar Allahabadi (1846–1921)
- عاشقی کا ہو برا اس نے بگاڑے سارے کامہم تو اے.بی میں رہے اغیار بے.اے. ہو گئےAkbar Allahabadi (1846–1921)
- عشوہ بھی ہے شوخی بھی تبسم بھی حیا بھیظالم میں اور اک بات ہے اس سب کے سوا بھیAkbar Allahabadi (1846–1921)
- عقل میں جو گھر گیا لا انتہا کیوں کر ہواجو سما میں آ گیا پھر وہ خدا کیوں کر ہواAkbar Allahabadi (1846–1921)
- غضب ہے وہ ضدی بڑے ہو گئےمیں لیٹا تو اٹھ کے کھڑے ہو گئےAkbar Allahabadi (1846–1921)
- فکر منزل ہو گئی ان کا گزرنا دیکھ کرزندہ دل میں ہو گیا اوروں کا مرنا دیکھ اورAkbar Allahabadi (1846–1921)
- قوم کے غم میں ڈنر کھاتے ہیں حکام کے ساتھرنج لیڈر کو بہت ہے مگر آرام کے ساتھAkbar Allahabadi (1846–1921)
- کوٹ اور پتلون جب پہنا تو مسٹر بن گیاجب کوئی تقریر کی جلسے میں لیڈر بن گیاAkbar Allahabadi (1846–1921)
- کھینچو نہ کمانوں کو نہ تلوار نکالوجب توپ مقابل ہو تو اخبار نکالوAkbar Allahabadi (1846–1921)
- لپٹ بھی جا نہ رک اکبرؔ غضب کی بیوٹی ہےنہیں نہیں پہ نہ جا یہ حیا کی ڈیوٹی ہےAkbar Allahabadi (1846–1921)
- لگاوٹ کی ادا سے ان کا کہنا پان حاضر ہےقیامت ہے ستم ہے دل فدا ہے جان حاضر ہےAkbar Allahabadi (1846–1921)
- لوگ کہتے ہیں بدلتا ہے زمانہ سب کومرد وہ ہیں جو زمانے کو بدل دیتے ہیںAkbar Allahabadi (1846–1921)
- لیڈروں کی دھوم ہے اور فالوور کوئی نہیںسب تو جنرل ہیں یہاں آخر سپاہی کون ہےAkbar Allahabadi (1846–1921)
- مے بھی ہوٹل میں پیو چندہ بھی دو مسجد میںشیخ بھی خوش رہیں شیطان بھی بے زار نہ ہوAkbar Allahabadi (1846–1921)
- ناز کیا اس پہ جو بدلا ہے زمانے نے تمہیںمرد ہیں وہ جو زمانے کو بدل دیتے ہیںAkbar Allahabadi (1846–1921)
- وصل ہو یا فراق ہو اکبرؔجاگنا رات بھر مصیبت ہےAkbar Allahabadi (1846–1921)
- ہم ایسی کل کتابیں قابل ضبطی سمجھتے ہیںکہ جن کو پڑھ کے لڑکے باپ کو خبطی سمجھتے ہیںAkbar Allahabadi (1846–1921)
- ہم کیا کہیں احباب کیا کار نمایاں کر گئےبی اے ہوئے نوکر ہوئے پنشن ملی پھر مر گئےAkbar Allahabadi (1846–1921)
- ہوئے اس قدر مہذب کبھی گھر کا منہ نہ دیکھاکٹی عمر ہوٹلوں میں مرے اسپتال جا کرAkbar Allahabadi (1846–1921)
- یہ دلبری یہ ناز یہ انداز یہ جمالانساں کرے اگر نہ تری چاہ کیا کرےAkbar Allahabadi (1846–1921)
- اب انتہا کا ترے ذکر میں اثر آیاکہ منہ سے نام لیا دل میں تو اتر آیاShad Azimabadi (1846–1927)
- اب بھی اک عمر پہ جینے کا نہ انداز آیازندگی چھوڑ دے پیچھا مرا میں باز آیاShad Azimabadi (1846–1927)
- اگر مرتے ہوئے لب پر نہ تیرا نام آئے گاتو میں مرنے سے در گزرا مرے کس کام آئے گاShad Azimabadi (1846–1927)
- ایک ستم اور لاکھ ادائیں اف ری جوانی ہائے زمانےترچھی نگاہیں تنگ قبائیں اف ری جوانی ہائے زمانےShad Azimabadi (1846–1927)
- اے بت جفا سے اپنی لیا کر وفا کا کامبندوں کے کام آ کہ یہی ہے خدا کا کامShad Azimabadi (1846–1927)
- بہت کچھ بھول ہو گئی بھولنے کا شادؔ سن آیامری جاں غم عبث ہے جھڑکیاں سننے کا دن آیاShad Azimabadi (1846–1927)
- بھاگا تو بہت تھا موت سے میں کم بخت نے لیکن آن لیاان لاکھوں ہی مرنے والوں میں کیا جلد مجھے پہچان لیاShad Azimabadi (1846–1927)
- بھول نہ اس کو دھن ہے جدھر کی چونک مسافر رات نہیں ہےشکل نمایاں ہوگی سحر کی چونک مسافر رات نہیں ہےShad Azimabadi (1846–1927)
- تا عمر آشنا نہ ہوا دل گناہ کاخالق بھلا کرے تری ترچھی نگاہ کاShad Azimabadi (1846–1927)
- تمام عمر نمک خوار تھے زمیں کے ہموفا سرشت میں تھی ہو رہے یہیں کے ہمShad Azimabadi (1846–1927)