Poetry

Poet
Meter
Clear
  1. لگا جب عکس ابرو دیکھنے دل دار پانی میںبہم ہر موج سے چلنے لگی تلوار پانی میںShah Naseer (1756–1838)
  2. لیا نہ ہاتھ سے جس نے سلام عاشق کاوہ کان دھر کے سنے کیا پیام عاشق کاShah Naseer (1756–1838)
  3. مل بیٹھنے یہ دے ہے فلک ایک دم کہاںکیا جانے تم کہاں ہو کوئی دم کو ہم کہاںShah Naseer (1756–1838)
  4. میری تربت پر چڑھانے ڈھونڈتا ہے کس کے پھولتیری آنکھوں کا ہوں کشتہ رکھ دے دو نرگس کے پھولShah Naseer (1756–1838)
  5. میں ضعف سے جوں نقش قدم اٹھ نہیں سکتابیٹھا ہوں سر خاک پہ جم اٹھ نہیں سکتاShah Naseer (1756–1838)
  6. میں نے بٹھلا کے جو پاس اس کو کھلایا بیڑاقتل پر میرے رقیبوں نے اٹھایا بیڑاShah Naseer (1756–1838)
  7. نکہت گل ہیں یا صبا ہیں ہمنہیں معلوم کچھ کہ کیا ہیں ہمShah Naseer (1756–1838)
  8. نہ دکھائیو ہجر کا درد و الم تجھے دیتا ہوں چرخ خدا کی قسممرے یار کو مجھ سے نہ کیجو جدا تجھے سرور ہر دوسرا کی قسمShah Naseer (1756–1838)
  9. نہ ذکر آشنا نے قصۂ بیگانہ رکھتے ہیںحدیث یار رکھتے ہیں یہی افسانہ رکھتے ہیںShah Naseer (1756–1838)
  10. واں کمر باندھے ہیں مژگاں قتل پر دونوں طرفیاں صف عشاق ہیں زیر و زبر دونوں طرفShah Naseer (1756–1838)
  11. ہاتھوں کو اٹھا جان سے آخر کو رہوں گاپر دل ہے رفیق اس کو کبھی تجھ کو نہ دوں گاShah Naseer (1756–1838)
  12. ہم پھڑک کر توڑتے ساری قفس کی تیلیاںپر نہیں اے ہم صفیرو! اپنے بس کی تیلیاںShah Naseer (1756–1838)
  13. ہوا اشک گلگوں بہار گریباںبرنگ رگ گل ہے تار گریباںShah Naseer (1756–1838)
  14. ہو چکی باغ میں بہار افسوسآہ اے بلبلو ہزار افسوسShah Naseer (1756–1838)
  15. یارو نہیں اتنا مجھے قاتل نے ستایاجتنا کہ مرے دشمن جاں دل نے ستایاShah Naseer (1756–1838)
  16. یاں سے دیں گے نہ تم کو جانے آجلاکھ اب تم کرو بہانے آجShah Naseer (1756–1838)
  17. بعد مجنوں کیوں نہ ہوں میں کار فرمائے جنوںعشق کی سرکار سے ملبوس رسوائی ملاShah Naseer (1756–1838)
  18. دل عشق خوش قداں میں جو خواہان نالہ تھانالے سے میرے کیا ہے ہوائی کو ہم سریShah Naseer (1756–1838)
  19. زلف چھٹتی ترے رخ پر تو دل اپنا پھرتاگھر کو بے شام نہیں صبح کا بھولا پھرتاShah Naseer (1756–1838)
  20. گو سیہ بخت ہوں پر یار لبھا لیتا ہےشکل سایہ کے مجھے ساتھ لگا لیتا ہےShah Naseer (1756–1838)
  21. نہ کیوں کہ اشک مسلسل ہو رہنما دل کاطریق عشق میں جاری ہے سلسلہ دل کاShah Naseer (1756–1838)
  22. ہار بنا ان پارۂ دل کا مانگ نہ گجرا پھولوں کااور کہاں سے عاشق مفلس لائے یہ گہنہ پھولوں کاShah Naseer (1756–1838)