Poetry
- بہار آئے گی پھوٹے گی شاخ سے کونپلشکست برگ خزاں سے یقین ہوتا ہےQaisarul Jafri (1926–2005)
- جہاں بھی خون ٹپکتا ہے سرفروشوں کابلند ہو کے وہ دھرتی گگن سے ملتی ہےQaisarul Jafri (1926–2005)
- چتا کو جب ترا ٹھنڈا بدن سونپا گیا ہوگاشرارے کھل گئے ہوں گے دھواں لہرا گیا ہوگاQaisarul Jafri (1926–2005)
- خاک پر گر کے لہو کون و مکاں تک پہنچاروشنی بن کے مہ و کاہکشاں تک پہنچاQaisarul Jafri (1926–2005)
- خوش آمدید کہوں کیا یہ شب عذاب کی ہےیہاں ملی ہو جو منزل شکست خواب کیQaisarul Jafri (1926–2005)
- دامن دل پہ غبار رہ منزل ہے ابھیپائے افکار میں دیرینہ سلاسل ہے ابھیQaisarul Jafri (1926–2005)
- در و دیوار پہ ہجرت کے نشاں دیکھ آئیںآؤ ہم اپنے بزرگوں کے مکاں دیکھ آئیںQaisarul Jafri (1926–2005)
- زندگی تو مجھے کس موڑ پہ لے آئی ہےخواب کھلتے تھے جہاں برف وہاں چھائی ہےQaisarul Jafri (1926–2005)
- میرے گھر میں جھونج بنائے گوریا کا جوڑاچونچ میں لے کر آئے جائے بھوسہ تھوڑا تھوڑاQaisarul Jafri (1926–2005)
- میرے ماضی کا کوئی زخم مرے پاس نہیںجس سے جو چیز ملی تھی اسے پھیر آیا ہوںQaisarul Jafri (1926–2005)
- میں اپنی زندگی سے ایک لمحے کا سوالی ہوںوہ لمحہ جو مرے نغموں کو چھو کر جاوداں کر دےQaisarul Jafri (1926–2005)
- میں جب بھی تیرے گھر کے پاس سے ہو کر گزرتا ہوںمجھے کھوئی ہوئی رعنائیاں آواز دیتی ہیںQaisarul Jafri (1926–2005)
- نہ جانے زندگی کہاں ٹھہر گئییہ فصل انتظار بھی گزر گئیQaisarul Jafri (1926–2005)
- ہوا کے دوش پر اڑتے ہوئے یہ اجنبی لمحےکہیں ایسا نہ ہو پرچھائیاں دے کر گزر جائیںQaisarul Jafri (1926–2005)
- یہ رات مشعل ارماں جلانے آئی ہےمگر نظر میں اندھیرا سا چھا رہا ہے کیوںQaisarul Jafri (1926–2005)
- یہ سرخ جنگ جو برپا ہوئی ہے سرحد پریہ تیز آگ جو پھیلی ہے کوہساروں میںQaisarul Jafri (1926–2005)
- یہ کون لوگ سر میکدہ پہنچ آئےچھلک رہا ہے لہو ہی لہو ایاغوں سےQaisarul Jafri (1926–2005)
- تم آ گئے ہو خدا کا ثبوت ہے یہ بھیقسم خدا کی ابھی میں نے تم کو سوچا تھاQaisarul Jafri (1926–2005)
- راستا دیکھ کے چل ورنہ یہ دن ایسے ہیںگونگے پتھر بھی سوالات کریں گے تجھ سےQaisarul Jafri (1926–2005)
- گھر لوٹ کے روئیں گے ماں باپ اکیلے میںمٹی کے کھلونے بھی سستے نہ تھے میلے میںQaisarul Jafri (1926–2005)
- مسافر چلتے چلتے تھک گئے منزل نہیں ملتیقدم کے ساتھ بڑھتا جا رہا ہو فاصلہ جیسےQaisarul Jafri (1926–2005)