Poetry

Poet
Meter
Clear
  1. بہار آئے گی پھوٹے گی شاخ سے کونپلشکست برگ خزاں سے یقین ہوتا ہےQaisarul Jafri (1926–2005)
  2. جہاں بھی خون ٹپکتا ہے سرفروشوں کابلند ہو کے وہ دھرتی گگن سے ملتی ہےQaisarul Jafri (1926–2005)
  3. چتا کو جب ترا ٹھنڈا بدن سونپا گیا ہوگاشرارے کھل گئے ہوں گے دھواں لہرا گیا ہوگاQaisarul Jafri (1926–2005)
  4. خاک پر گر کے لہو کون و مکاں تک پہنچاروشنی بن کے مہ و کاہکشاں تک پہنچاQaisarul Jafri (1926–2005)
  5. خوش آمدید کہوں کیا یہ شب عذاب کی ہےیہاں ملی ہو جو منزل شکست خواب کیQaisarul Jafri (1926–2005)
  6. دامن دل پہ غبار رہ منزل ہے ابھیپائے افکار میں دیرینہ سلاسل ہے ابھیQaisarul Jafri (1926–2005)
  7. در و دیوار پہ ہجرت کے نشاں دیکھ آئیںآؤ ہم اپنے بزرگوں کے مکاں دیکھ آئیںQaisarul Jafri (1926–2005)
  8. زندگی تو مجھے کس موڑ پہ لے آئی ہےخواب کھلتے تھے جہاں برف وہاں چھائی ہےQaisarul Jafri (1926–2005)
  9. میرے گھر میں جھونج بنائے گوریا کا جوڑاچونچ میں لے کر آئے جائے بھوسہ تھوڑا تھوڑاQaisarul Jafri (1926–2005)
  10. میرے ماضی کا کوئی زخم مرے پاس نہیںجس سے جو چیز ملی تھی اسے پھیر آیا ہوںQaisarul Jafri (1926–2005)
  11. میں اپنی زندگی سے ایک لمحے کا سوالی ہوںوہ لمحہ جو مرے نغموں کو چھو کر جاوداں کر دےQaisarul Jafri (1926–2005)
  12. میں جب بھی تیرے گھر کے پاس سے ہو کر گزرتا ہوںمجھے کھوئی ہوئی رعنائیاں آواز دیتی ہیںQaisarul Jafri (1926–2005)
  13. نہ جانے زندگی کہاں ٹھہر گئییہ فصل انتظار بھی گزر گئیQaisarul Jafri (1926–2005)
  14. ہوا کے دوش پر اڑتے ہوئے یہ اجنبی لمحےکہیں ایسا نہ ہو پرچھائیاں دے کر گزر جائیںQaisarul Jafri (1926–2005)
  15. یہ رات مشعل ارماں جلانے آئی ہےمگر نظر میں اندھیرا سا چھا رہا ہے کیوںQaisarul Jafri (1926–2005)
  16. یہ سرخ جنگ جو برپا ہوئی ہے سرحد پریہ تیز آگ جو پھیلی ہے کوہساروں میںQaisarul Jafri (1926–2005)
  17. یہ کون لوگ سر میکدہ پہنچ آئےچھلک رہا ہے لہو ہی لہو ایاغوں سےQaisarul Jafri (1926–2005)
  18. تم آ گئے ہو خدا کا ثبوت ہے یہ بھیقسم خدا کی ابھی میں نے تم کو سوچا تھاQaisarul Jafri (1926–2005)
  19. راستا دیکھ کے چل ورنہ یہ دن ایسے ہیںگونگے پتھر بھی سوالات کریں گے تجھ سےQaisarul Jafri (1926–2005)
  20. گھر لوٹ کے روئیں گے ماں باپ اکیلے میںمٹی کے کھلونے بھی سستے نہ تھے میلے میںQaisarul Jafri (1926–2005)
  21. مسافر چلتے چلتے تھک گئے منزل نہیں ملتیقدم کے ساتھ بڑھتا جا رہا ہو فاصلہ جیسےQaisarul Jafri (1926–2005)