Poetry
Rajaz Musamman Salim
رجز مثمن سالم- پی کر شراب شوق کوں بے ہوش ہو بے ہوش ہوجیوں غنچہ لب کوں بند کر خاموش ہو خاموش ہوSiraj Aurangabadi (1712–1764)
- کھولی جو ٹک اے ہم نشیں اس دل ربا کی زلف کلکیا کیا جتائے خم کے خم کیا کیا دکھائے بل کے بلNazeer Akbarabadi (1735–1830)
- جو علم مردوں کے لیے سمجھا گیا آب حیاتٹھہرا تمہارے حق میں وہ زہر ہلاہل سربسرAltaf Hussain Hali (1837–1914)
- اس نے کہا کعبہ ترا میں نے کہا چہرا ترااس نے کہا چہرا ترا میں نے کہا جلوا تراMaharaja Sir Kishan Parashad Shad (1864–1940)
- پوچھا کہ وجہ زندگی بولے کہ دل داری مریپوچھا کہ مرنے کا سبب بولے جفا کاری مریMuztar Khairabadi (1865–1927)
- مسلمان اور تعلیم جدیدAllama Iqbal (1877–1938)
- گلیوں کی شمعیں بجھ گئیں اور شہر سونا ہو گیابجلی کا کھمبا تھام کر بانکا سپاہی سو گیاAhmad Nadeem Qasmi (1916–2006)
- اے دل مجھے ایسی جگہ لے چل جہاں کوئی نہ ہواپنا پرایا مہرباں نا مہرباں کوئی نہ ہوMajrooh Sultanpuri (1919–2000)
- کل چودھویں کی رات تھی شب بھر رہا چرچا تراکچھ نے کہا یہ چاند ہے کچھ نے کہا چہرا تراIbn-e-Insha (1927–1978)
- سایہ نہیں ہے دور تک سائے میں آئیں کس طرحہم آ گئے ہیں کس طرف تم کو بتائیں کس طرحQamar Jameel (1927–2000)
- جی میں ہے اک دن جھوم کر اس شوخ کو سجدہ کروںسجدے سے پھر اللہ تک اک راستہ پیدا کروںVaris Kirmani (1927–2012)
- یہ دل یہ پاگل دل مرا کیوں بجھ گیا آوارگیاس دشت میں اک شہر تھا وہ کیا ہوا آوارگیMohsin Naqvi (1947–1996)
- گفتار میں چھلکا تری نمکین باتوں کا نمکتیری اجازت ہو تو چکھ لوں تیرے ہونٹھوں کا نمکYamit Punetha Zaif (b. 1990)
- اک پھول میرے پاس تھا اک شمع میرے ساتھ تھیباہر خزاں کا زور تھا اندر اندھیری رات تھیAhmad Mushtaq
- مہ رو نہ ہو اور چاندنی وہ رات ہے کس کام کیہو وہ بھی پر خلوت نہ ہو یہ بات ہے کس کام کیمرزا اظفری
- بحریؔ پچھانے نیں اسے گل کے سو وہ دم ساز تھےچنچل چھبیلے چلبلے مغرور صاحب ناز تھےعلیم اللہ
- تجھ بت کا ہوں میں برہمن کرتار کی سوگند ہےجپتا ہوں مالا یار کی زنار کی سوگند ہےObaidullah Khan Mubtala
- کچھ دل نشیں یادیں بھی ہیں کچھ درد کا رشتہ بھی ہےمیں کس طرح بھولوں اسے وہ عمر کا حصہ بھی ہےNaeem Sameer
- محنت کرومحمد حسین آزاد