Poetry
- ادا شناس ترا بے زباں نہیں ہوتاکہے وہ کس سے کوئی نکتہ داں نہیں ہوتاعزیز الحسن غوری
- پس پردہ تجھے ہر بزم میں شامل سمجھتے ہیںکوئی محفل ہو ہم اس کو تری محفل سمجھتے ہیںعزیز الحسن غوری
- جلوہ فرما دیر تک دل بر رہااپنی کہہ لی سب نے میں ششدر رہاعزیز الحسن غوری
- دل ربا پہلو سے اب اٹھ کر جدا ہونے کو ہےکیا غضب ہے کیا قیامت ہے یہ کیا ہونے کو ہےعزیز الحسن غوری
- نظارے ہوئے ہیں اشارے ہوئے ہیںہم ان کے ہوئے وہ ہمارے ہوئے ہیںعزیز الحسن غوری
- نہ دیکھوں گا حسینوں کو ارے توبہ نہ دیکھوں گاتقاضا لاکھ تو کر اے دل شیدا نہ دیکھوں گاعزیز الحسن غوری
- وفا کر کے اس کا صلا چاہتا ہوںبڑا ناسزا ہوں سزا چاہتا ہوںعزیز الحسن غوری
- وہ مست ناز آتا ہے ذرا ہشیار ہو جانایہیں دیکھا گیا ہے بے پیے سرشار ہو جاناعزیز الحسن غوری
- ہر تمنا دل سے رخصت ہو گئیاب تو آ جا اب تو خلوت ہو گئیعزیز الحسن غوری
- ہر چیز میں عکس رخ زیبا نظر آیاعالم مجھے سب جلوہ ہی جلوہ نظر آیاعزیز الحسن غوری