Poetry
- اک ندی میں سیکڑوں دریا کی طغیانی ملیڈوبنے والے کو مر جانے کی آسانی ملیZafar Imam (b. 1963)
- بھلے ہی آنکھ مری ساری رات جاگے گیسجا سجا کے سلیقے سے خواب دیکھے گیZafar Imam (b. 1963)
- درد بہتا ہے دریا کے سینے میں پانی نہیںاس کا چٹان پہ سر پٹکنا کہانی نہیںZafar Imam (b. 1963)
- درد کی دھوپ بھرے دل کی تمازت لے کرکیسے جائے کوئی احساس کی ہجرت لے کرZafar Imam (b. 1963)
- دکھ درد مرے پاس بھی جوہر کی طرح ہیںظلمت میں وہ قندیل منور کی طرح ہیںZafar Imam (b. 1963)
- دھوپ نکلی کبھی بادل سے ڈھکی رہتی ہےرات دن اپنی ہی آنکھوں میں جگی رہتی ہےZafar Imam (b. 1963)
- ساحل پر دریا کی لہریں سجدا کرتی رہتی ہیںلوٹ کے پھر آنے جانے کا وعدا کرتی رہتی ہیںZafar Imam (b. 1963)
- میرے اندر کا غرور اندر گزرتا رہ گیاسر سے پانو تک اترنا تھا اترتا رہ گیاZafar Imam (b. 1963)
- میں ہی دستک دینے والا میں ہی دستک سننے والااپنے گھر کی بربادی پر میں ہی سر کو دھننے والاZafar Imam (b. 1963)
- ناؤ دریا میں چلے سامنے منجدھار بھی ہوڈوب جانے کے لئے ہر کوئی تیار بھی ہوZafar Imam (b. 1963)