Poetry
- ان کو پھر دیکھنے کی آس نہیںچاک اب دامن حواس نہیںZabih Allahabadi (1918–1987)
- جانے والے پھر نہ لوٹے کچھ تو اس میں راز ہےکیا طلسم خاک میں بھی جاں فزا انداز ہےZabih Allahabadi (1918–1987)
- ختم اپنی گردش ایام کر کے آئے ہیںصبح کے نکلے ہوئے جو شام کر کے آئے ہیںZabih Allahabadi (1918–1987)
- ساقی مئے وحدت کا وہ جام پلا مجھ کومٹ جائے خودی دل سے مل جائے خدا مجھ کوZabih Allahabadi (1918–1987)
- قدرت نے دی ہے مجھ کو بہار آفریں نظرکتنی حسیں نظر ہے یہ کتنی حسیں نظرZabih Allahabadi (1918–1987)
- مجھ کو نہیں دماغ گلوں کی شمیم کااحسان کیوں اٹھاؤں قفس میں نسیم کاZabih Allahabadi (1918–1987)
- محشر امید پہلے دل میں پیدا کیجئےاس کا جلوہ دیکھنے کی پھر تمنا کیجئےZabih Allahabadi (1918–1987)
- ہجر کی شب دراز ہے دور ابھی سحر بھی ہےاور ہماری زندگی شمع سے مختصر بھی ہےZabih Allahabadi (1918–1987)