Poetry

Poet
Meter
Clear
  1. ان کو پھر دیکھنے کی آس نہیںچاک اب دامن حواس نہیںZabih Allahabadi (1918–1987)
  2. جانے والے پھر نہ لوٹے کچھ تو اس میں راز ہےکیا طلسم خاک میں بھی جاں فزا انداز ہےZabih Allahabadi (1918–1987)
  3. ختم اپنی گردش ایام کر کے آئے ہیںصبح کے نکلے ہوئے جو شام کر کے آئے ہیںZabih Allahabadi (1918–1987)
  4. ساقی مئے وحدت کا وہ جام پلا مجھ کومٹ جائے خودی دل سے مل جائے خدا مجھ کوZabih Allahabadi (1918–1987)
  5. قدرت نے دی ہے مجھ کو بہار آفریں نظرکتنی حسیں نظر ہے یہ کتنی حسیں نظرZabih Allahabadi (1918–1987)
  6. مجھ کو نہیں دماغ گلوں کی شمیم کااحسان کیوں اٹھاؤں قفس میں نسیم کاZabih Allahabadi (1918–1987)
  7. محشر امید پہلے دل میں پیدا کیجئےاس کا جلوہ دیکھنے کی پھر تمنا کیجئےZabih Allahabadi (1918–1987)
  8. ہجر کی شب دراز ہے دور ابھی سحر بھی ہےاور ہماری زندگی شمع سے مختصر بھی ہےZabih Allahabadi (1918–1987)