Poetry
- باتیں نہ کس نے ہم کو کہیں تیرے واسطےاور ہم نے بھی نہ کس کی سہیں تیرے واسطےعیش دہلوی
- پھرا کسی کا الٰہی کسی سے یار نہ ہوکوئی جہان میں برگشتہ روزگار نہ ہوعیش دہلوی
- پھول اللہ نے بنائے ہیں مہکنے کے لیےاور بلبل کو بنایا ہے چہکنے کے لیےعیش دہلوی
- تو ہی انصاف سے کہہ جس کا خفا یار رہےاپنے جینے سے نہ کس طرح وہ بے زار رہےعیش دہلوی
- جرأت اے دل مے و مینا ہے وہ خود کام بھی ہےبزم اغیار سے خالی بھی ہے اور شام بھی ہےعیش دہلوی
- جو ہوتا آہ تری آہ بے اثر میں اثرتو کچھ تو ہوتا دل شوخ فتنہ گر میں اثرعیش دہلوی
- شور اب عالم میں ہے اس شعبدہ پرداز کاچرخ بھی اک شعبدہ ہے جس سراپا ناز کاعیش دہلوی
- عاشقوں کو اے فلک دیوے گا تو آزار کیادشمن جاں ان کا تھوڑا ہے دل بیمار کیاعیش دہلوی
- کچھ کم نہیں ہیں شمع سے دل کی لگن میں ہمفانوس میں وہ جلتی ہے یاں پیرہن میں ہمعیش دہلوی
- کسی کی نیک ہو یا بد جہاں میں خو نہیں چھپتیچھپائے لاکھ خوشبو یا کوئی بدبو نہیں چھپتیعیش دہلوی
- کیا ہوئے عاشق اس شکر لب کےطعنے سہنے پڑے ہمیں سب کےعیش دہلوی
- میرا شکوہ تری محفل میں عدو کرتے ہیںاس پہ بھی صبر ہم اے عربدہ جو کرتے ہیںعیش دہلوی
- میں برا ہی سہی بھلا نہ سہیپر تری کون سی جفا نہ سہیعیش دہلوی
- اگر اپنا کہا تم آپ ہی سمجھے تو کیا سمجھےمزا کہنے کا جب ہے اک کہے اور دوسرا سمجھےعیش دہلوی
- جس دل میں تری زلف کا سودا نہیں ہوتاوہ دل نہیں ہوتا نہیں ہوتا نہیں ہوتاعیش دہلوی
- دوست جب دل سا آشنا ہی نہیںاب ہمیں غیر کا گلہ ہی نہیںعیش دہلوی