Poetry

Poet
Meter
Clear
  1. باتیں نہ کس نے ہم کو کہیں تیرے واسطےاور ہم نے بھی نہ کس کی سہیں تیرے واسطےعیش دہلوی
  2. پھرا کسی کا الٰہی کسی سے یار نہ ہوکوئی جہان میں برگشتہ روزگار نہ ہوعیش دہلوی
  3. پھول اللہ نے بنائے ہیں مہکنے کے لیےاور بلبل کو بنایا ہے چہکنے کے لیےعیش دہلوی
  4. تو ہی انصاف سے کہہ جس کا خفا یار رہےاپنے جینے سے نہ کس طرح وہ بے زار رہےعیش دہلوی
  5. جرأت اے دل مے و مینا ہے وہ خود کام بھی ہےبزم اغیار سے خالی بھی ہے اور شام بھی ہےعیش دہلوی
  6. جو ہوتا آہ تری آہ بے اثر میں اثرتو کچھ تو ہوتا دل شوخ فتنہ گر میں اثرعیش دہلوی
  7. شور اب عالم میں ہے اس شعبدہ پرداز کاچرخ بھی اک شعبدہ ہے جس سراپا ناز کاعیش دہلوی
  8. عاشقوں کو اے فلک دیوے گا تو آزار کیادشمن جاں ان کا تھوڑا ہے دل بیمار کیاعیش دہلوی
  9. کچھ کم نہیں ہیں شمع سے دل کی لگن میں ہمفانوس میں وہ جلتی ہے یاں پیرہن میں ہمعیش دہلوی
  10. کسی کی نیک ہو یا بد جہاں میں خو نہیں چھپتیچھپائے لاکھ خوشبو یا کوئی بدبو نہیں چھپتیعیش دہلوی
  11. کیا ہوئے عاشق اس شکر لب کےطعنے سہنے پڑے ہمیں سب کےعیش دہلوی
  12. میرا شکوہ تری محفل میں عدو کرتے ہیںاس پہ بھی صبر ہم اے عربدہ جو کرتے ہیںعیش دہلوی
  13. میں برا ہی سہی بھلا نہ سہیپر تری کون سی جفا نہ سہیعیش دہلوی
  14. اگر اپنا کہا تم آپ ہی سمجھے تو کیا سمجھےمزا کہنے کا جب ہے اک کہے اور دوسرا سمجھےعیش دہلوی
  15. جس دل میں تری زلف کا سودا نہیں ہوتاوہ دل نہیں ہوتا نہیں ہوتا نہیں ہوتاعیش دہلوی
  16. دوست جب دل سا آشنا ہی نہیںاب ہمیں غیر کا گلہ ہی نہیںعیش دہلوی