Poetry
- اب وہ آغوش تصور سے نہ جانے پائےبے خودی مجھ کو کبھی ہوش نہ آنے پائےYas Tonki (b. 1870)
- فہم و ادراک سے رتبہ ترا بالا دیکھاقافیہ تنگ بہت فکر رسا کا دیکھاYas Tonki (b. 1870)
- کروں کیوں نہ آہ و نالہ کہ مجھے تو کل نہ آئےترے خواب ناز میں بھی شب غم خلل نہ آئےYas Tonki (b. 1870)
- موت آتی ہے نہ کمبخت قرار آتا ہےتجھ پہ اب رحم بہت اے دل زار آتا ہےYas Tonki (b. 1870)
- نہ عشرت کی تمنا ہے نہ محفل کی تمنا ہےفقط اک خلوت غم آشنا دل کی تمنا ہےYas Tonki (b. 1870)
- ہائے کس انجمن ناز سے تو آتی ہےاے صبا تجھ سے مجھے رشک کی بو آتی ہےYas Tonki (b. 1870)
- ہائے کیسا جان سے بیزار ہےجو تمہارے ہجر کا بیمار ہےYas Tonki (b. 1870)