Poetry
- آخر وہ اضطراب کے دن بھی گزر گئےجب دل حریف آتش قہر و عتاب تھاVaris Kirmani (1927–2012)
- اجڑ کے گھر سے سر راہ آ کے بیٹھے ہیںہم اپنی ضد میں سبھی کچھ گنوا کے بیٹھے ہیںVaris Kirmani (1927–2012)
- اے صبا نکہت گیسوۓ معنبر لاناکوئی تحفہ گل و نسرین سے خوشتر لاناVaris Kirmani (1927–2012)
- بہت دنوں میں ہم ان سے جو ہم کلام ہوئےدل و نظر ہمہ تن سجدہ و سلام ہوئےVaris Kirmani (1927–2012)
- جمال نسترنی رنگ و بوئے یاسمنیگلوں نے سیکھ لیا تم سے ذوق پیرہنیVaris Kirmani (1927–2012)
- جی میں ہے اک دن جھوم کر اس شوخ کو سجدہ کروںسجدے سے پھر اللہ تک اک راستہ پیدا کروںVaris Kirmani (1927–2012)
- عاشق ہوئے تو عشق میں ہشیار کیوں نہ تھےہم ان کے مدح خواں سر بازار کیوں نہ تھےVaris Kirmani (1927–2012)
- کھوئے ہوئے صحرا تک اے باد صبا جاناوہ خاک جنوں میری آنکھوں سے لگا جاناVaris Kirmani (1927–2012)
- لاکھ ناداں ہیں مگر اتنی سزا بھی نہ ملےچارہ سازوں کو مری شام بلا بھی نہ ملےVaris Kirmani (1927–2012)
- یہ قدم قدم کشاکش دل بے قرار کیا ہےجو یقیں نہ ہو عمل پر تو نشاط کار کیا ہےVaris Kirmani (1927–2012)