Poetry
- اک دن زباں سکوت کی پوری بناؤں گامیں گفتگو کو غیر ضروری بناؤں گاUmair Najmi (b. 1986)
- ایک تاریخ مقرر پہ تو ہر ماہ ملےجیسے دفتر میں کسی شخص کو تنخواہ ملےUmair Najmi (b. 1986)
- بچھڑ گئے تو یہ دل عمر بھر لگے گا نہیںلگے گا لگنے لگا ہے مگر لگے گا نہیںUmair Najmi (b. 1986)
- بڑے تحمل سے رفتہ رفتہ نکالنا ہےبچا ہے جو تجھ میں میرا حصہ نکالنا ہےUmair Najmi (b. 1986)
- تم اس خرابے میں چار چھ دن ٹہل گئی ہوسو عین ممکن ہے دل کی حالت بدل گئی ہوUmair Najmi (b. 1986)
- جہان بھر کی تمام آنکھیں نچوڑ کر جتنا نم بنے گایہ کل ملا کر بھی ہجر کی رات میرے گریہ سے کم بنے گاUmair Najmi (b. 1986)
- دائیں بازو میں گڑا تیر نہیں کھینچ سکااس لئے خول سے شمشیر نہیں کھینچ سکاUmair Najmi (b. 1986)
- کچھ سفینے ہیں جو غرقاب اکٹھے ہوں گےآنکھ میں خواب تہہ آب اکٹھے ہوں گےUmair Najmi (b. 1986)
- کھیل دونوں کا چلے تین کا دانہ نہ پڑےسیڑھیاں آتی رہیں سانپ کا خانہ نہ پڑےUmair Najmi (b. 1986)
- مجھے پہلے تو لگتا تھا کہ ذاتی مسئلہ ہےمیں پھر سمجھا محبت کائناتی مسئلہ ہےUmair Najmi (b. 1986)
- میں برش چھوڑ چکا آخری تصویر کے بعدمجھ سے کچھ بن نہیں پایا تری تصویر کے بعدUmair Najmi (b. 1986)
- ہر اک ہزار میں بس پانچ سات ہیں ہم لوگنصاب عشق پہ واجب زکوٰۃ ہیں ہم لوگUmair Najmi (b. 1986)
- کتاب عشق میں ہر آہ ایک آیت ہےپر آنسوؤں کو حروف مقطعات سمجھUmair Najmi (b. 1986)
- کسی گلی میں کرائے پہ گھر لیا اس نےپھر اس گلی میں گھروں کے کرائے بڑھنے لگےUmair Najmi (b. 1986)
- یہ سات اٹھ پڑوسی کہاں سے آئے مرےتمھارے دل میں تو کوئی نہ تھا سوائے مرےUmair Najmi (b. 1986)