Poetry
- آ کدھر ہے تو ساقیٔ مخموربھر کے دے جام بادۂ انگورسردار گینڈا سنگھ مشرقی
- اگر الٹی بھی ہو اے مشرقیؔ تدبیر سیدھی ہومگر یہ شرط ہے انسان کی تقدیر سیدھی ہوسردار گینڈا سنگھ مشرقی
- الٰہی خیر ہو وہ آج کیوں کر تن کے بیٹھے ہیںکسی کے قتل کرنے کو بھبھوکا بن کے بیٹھے ہیںسردار گینڈا سنگھ مشرقی
- ان بتوں سے ربط توڑا چاہئےچاہئے اب ان کو تھوڑا چاہئےسردار گینڈا سنگھ مشرقی
- بجز سایہ تن لاغر کو میرے کوئی کیا سمجھےمری صورت کو محفل میں وہ نقش بوریا سمجھےسردار گینڈا سنگھ مشرقی
- بوسہ دیتے ہو اگر تم مجھ کو دو دو سب کے دوجیبھ کے دو سر کے دو رخسار کے دو سب کے دوسردار گینڈا سنگھ مشرقی
- تمہیں شب وعدہ درد سر تھا یہ سب ہیں بے اعتبار باتیںیقیں نہ آئے گا ہم کو ہرگز بناؤ گو تم ہزار باتیںسردار گینڈا سنگھ مشرقی
- تیری محفل میں جتنے اے ستم گر جانے والے ہیںہمیں ہیں ایک ان میں جو ترا غم کھانے والے ہیںسردار گینڈا سنگھ مشرقی
- جس کا راہب شیخ ہو بت خانہ ایسا چاہیےمحتسب ساقی بنے مے خانہ ایسا چاہیےسردار گینڈا سنگھ مشرقی
- جو تمہیں یاد کیا کرتے ہیںآہ و فریاد کیا کرتے ہیںسردار گینڈا سنگھ مشرقی
- دیکھا کسی کا ہم نے نہ ایسا سنا دماغان سنگ دل بتوں کا ہے اللہ کیا دماغسردار گینڈا سنگھ مشرقی
- رونق عہد جوانی الوداعالودع اے شادمانی الوداعسردار گینڈا سنگھ مشرقی
- رہتا ہے کب اک روش پر آسماںکھاتا ہے چکر پہ چکر آسماںسردار گینڈا سنگھ مشرقی
- رہ کر مکان میں مرے مہمان جائیےمیرا بھی ایک بار کہا مان جائیےسردار گینڈا سنگھ مشرقی
- کالی کالی گھٹا برستی ہےآج کیا لطف مے پرستی ہےسردار گینڈا سنگھ مشرقی
- کالی گھٹا کب آئے گی فصل بہار میںآنکھیں سفید ہو گئیں اس انتظار میںسردار گینڈا سنگھ مشرقی
- کچھ بدگمانیاں ہیں کچھ بد زبانیاں ہیںمدت سے ان کی ہم پر یہ مہربانیاں ہیںسردار گینڈا سنگھ مشرقی
- کوئی اس سے نہیں کہتا کہ یہ کیا بے وفائی ہےچرا کر دل مرا اب آنکھ بھی اپنی چرائی ہےسردار گینڈا سنگھ مشرقی
- کی مے سے ہزار بار توبہرہتی نہیں برقرار توبہسردار گینڈا سنگھ مشرقی
- مرا یہ زخم سینہ کا کہیں بھرتا ہے سینے سےلگائے اے صنم جب تک نہ تو سینہ کو سینے سےسردار گینڈا سنگھ مشرقی
- ناصحا آیا نصیحت ہے سنانے کے لیےیا کہ آیا ہے یہاں تیرے ستانے کے لیےسردار گینڈا سنگھ مشرقی
- نالہ شب فراق جو کوئی نکل گیاجوش جنوں سے چیر کے چرخ و زحل گیاسردار گینڈا سنگھ مشرقی
- وسعت بحر عشق کیا کہیےابتدا ہو تو انتہا کہیےسردار گینڈا سنگھ مشرقی
- ہیں بہت دیکھے چاہنے والےپر ملے کم نباہنے والےسردار گینڈا سنگھ مشرقی
- میں وہ آتش نفس ہوں آگ ابھیخرمن برق میں لگا دوں گاسردار گینڈا سنگھ مشرقی