Poetry
- ابرو ہے کعبہ آج سے یہ نام رکھ دیاہم نے اٹھا کے طاق پہ اسلام رکھ دیاشوق قدوائی
- بھاگے اچھی شکلوں والے عشق ہے گویا کام برااپنی حالت کیا میں بتاؤں بد اچھا بدنام براشوق قدوائی
- تھا بند وہ در پھر بھی میں سو بار گیا تھامانند ہوا پھاند کے دیوار گیا تھاشوق قدوائی
- تیری سی بھی آفت کوئی اے سوزش تب ہےاک آگ ہے سو اتنی جلن آگ میں کب ہےشوق قدوائی
- جفا پہ شکر کا امیدوار کیوں آیامری وفا کا اسے اعتبار کیوں آیاشوق قدوائی
- دل کھوٹا ہے ہم کو اس سے راز عشق نہ کہنا تھاگھر کا بھیدی لنکا ڈھائے اتنا سمجھے رہنا تھاشوق قدوائی
- دل مرا ٹوٹا تو اس کو کچھ ملال آ ہی گیااپنے بچپن کے کھلونے کا خیال آ ہی گیاشوق قدوائی
- روح کو آج ناز ہے اپنا وقار دیکھ کراس نے چڑھائیں تیوریاں میرا قرار دیکھ کرشوق قدوائی
- لب چپ ہیں تو کیا دل گلہ پرداز نہیں ہےسب کچھ ہے خموشی میں اک آواز نہیں ہےشوق قدوائی
- مارے غصے کے غضب کی تاب رخساروں میں ہےکل تو تھی پھولوں میں گنتی آج انگاروں میں ہےشوق قدوائی
- وہ لے کے دل کو یہ سوچی کہیں جگر بھی ہےنظر ٹٹول رہی ہے کہ کچھ ادھر بھی ہےشوق قدوائی
- ہوئی یا مجھ سے نفرت یا کچھ اس میں کبر و ناز آیاکبھی وہ مسکرا دیتا تھا اب اس سے بھی باز آیاشوق قدوائی
- فریاد اور تجھ کو ستم گر کہے بغیرمانوں نہ حشر میں ترے منہ پر کہے بغیرشوق قدوائی