Poetry

Poet
Meter
Clear
  1. ابرو ہے کعبہ آج سے یہ نام رکھ دیاہم نے اٹھا کے طاق پہ اسلام رکھ دیاشوق قدوائی
  2. بھاگے اچھی شکلوں والے عشق ہے گویا کام برااپنی حالت کیا میں بتاؤں بد اچھا بدنام براشوق قدوائی
  3. تھا بند وہ در پھر بھی میں سو بار گیا تھامانند ہوا پھاند کے دیوار گیا تھاشوق قدوائی
  4. تیری سی بھی آفت کوئی اے سوزش تب ہےاک آگ ہے سو اتنی جلن آگ میں کب ہےشوق قدوائی
  5. جفا پہ شکر کا امیدوار کیوں آیامری وفا کا اسے اعتبار کیوں آیاشوق قدوائی
  6. دل کھوٹا ہے ہم کو اس سے راز عشق نہ کہنا تھاگھر کا بھیدی لنکا ڈھائے اتنا سمجھے رہنا تھاشوق قدوائی
  7. دل مرا ٹوٹا تو اس کو کچھ ملال آ ہی گیااپنے بچپن کے کھلونے کا خیال آ ہی گیاشوق قدوائی
  8. روح کو آج ناز ہے اپنا وقار دیکھ کراس نے چڑھائیں تیوریاں میرا قرار دیکھ کرشوق قدوائی
  9. لب چپ ہیں تو کیا دل گلہ پرداز نہیں ہےسب کچھ ہے خموشی میں اک آواز نہیں ہےشوق قدوائی
  10. مارے غصے کے غضب کی تاب رخساروں میں ہےکل تو تھی پھولوں میں گنتی آج انگاروں میں ہےشوق قدوائی
  11. وہ لے کے دل کو یہ سوچی کہیں جگر بھی ہےنظر ٹٹول رہی ہے کہ کچھ ادھر بھی ہےشوق قدوائی
  12. ہوئی یا مجھ سے نفرت یا کچھ اس میں کبر و ناز آیاکبھی وہ مسکرا دیتا تھا اب اس سے بھی باز آیاشوق قدوائی
  13. فریاد اور تجھ کو ستم گر کہے بغیرمانوں نہ حشر میں ترے منہ پر کہے بغیرشوق قدوائی