Poetry
- بتو یہ شیشۂ دل توڑ دو خدا کے لیےجو سنگ دل ہو تو کیا چاہیئے جفا کے لیےشیخ علی بخش بیمار
- دخل ہر دل میں ترا مثل سویدا ہو گیاالاماں اے زلف عالمگیر سودا ہو گیاشیخ علی بخش بیمار
- دم نہ نکلا یار کی نامہربانی دیکھ کرسخت حیراں ہوں میں اپنی سخت جانی دیکھ کرشیخ علی بخش بیمار
- رنجش تری ہر دم کی گوارا نہ کریں گےاب اور ہی معشوق سے یارانہ کریں گےشیخ علی بخش بیمار
- فصل گل ساتھ لیے باغ میں کیا آتی ہےبلبل نغمہ سرا رو رو بقضا آتی ہےشیخ علی بخش بیمار
- کون برہم ہے زلف جاناں سےتنگ ہوں خاطر پریشاں سےشیخ علی بخش بیمار
- کون دنیا سے بادہ خوار اٹھاچشم تر ابر نو بہار اٹھاشیخ علی بخش بیمار
- کیا کیا نہ تیرے صدمے سے باد خزاں گراگل برگ سرو فاختہ کا آشیاں گراشیخ علی بخش بیمار
- نہ کہو اعتبار ہے کس کابے وفائی شعار ہے کس کاشیخ علی بخش بیمار