Poetry

Poet
Meter
Clear
  1. بتو یہ شیشۂ دل توڑ دو خدا کے لیےجو سنگ دل ہو تو کیا چاہیئے جفا کے لیےشیخ علی بخش بیمار
  2. دخل ہر دل میں ترا مثل سویدا ہو گیاالاماں اے زلف عالمگیر سودا ہو گیاشیخ علی بخش بیمار
  3. دم نہ نکلا یار کی نامہربانی دیکھ کرسخت حیراں ہوں میں اپنی سخت جانی دیکھ کرشیخ علی بخش بیمار
  4. رنجش تری ہر دم کی گوارا نہ کریں گےاب اور ہی معشوق سے یارانہ کریں گےشیخ علی بخش بیمار
  5. فصل گل ساتھ لیے باغ میں کیا آتی ہےبلبل نغمہ سرا رو رو بقضا آتی ہےشیخ علی بخش بیمار
  6. کون برہم ہے زلف جاناں سےتنگ ہوں خاطر پریشاں سےشیخ علی بخش بیمار
  7. کون دنیا سے بادہ خوار اٹھاچشم تر ابر نو بہار اٹھاشیخ علی بخش بیمار
  8. کیا کیا نہ تیرے صدمے سے باد خزاں گراگل برگ سرو فاختہ کا آشیاں گراشیخ علی بخش بیمار
  9. نہ کہو اعتبار ہے کس کابے وفائی شعار ہے کس کاشیخ علی بخش بیمار