Poetry
- اٹھی ہے جب سے دل میں مرے عشق کی ترنگشادی و غم ہیں آگے مرے دونوں ایک رنگشاہ آثم
- اس دل میں اگر جلوۂ دل دار نہ ہوتازنہار یہ دل مظہر اسرار نہ ہوتاشاہ آثم
- اسلام اور کفر ہمارا ہی نام ہےکعبہ کنشت دونوں میں اپنا مقام ہےشاہ آثم
- افسانہ مرے دل کا دل آزار سے کہہ دوبلبل کے ذرا درد کو گلزار سے کہہ دوشاہ آثم
- بندۂ عشق ہوں جز یار مجھے کام نہیںخواہش ننگ نہیں کچھ ہوس نام نہیںشاہ آثم
- بہ چشم حقیقت جہاں دیکھتا ہوںمیں جاناں کا جلوہ عیاں دیکھتا ہوںشاہ آثم
- بے خودی میں عجب مزا دیکھاسر مخفی کو برملا دیکھاشاہ آثم
- دستیاب اس کو ہوا جب سے ہے گلدستۂ داغبلبل دل کا نہیں ملتا ہے زنہار دماغشاہ آثم
- سن لیوے اگر تو مری دل دار کی آوازہرگز نہ سنے پھر کبھوں مزمار کی آوازشاہ آثم
- شکل جانانہ جا بجا ہیں ہمکہیں ناز اور کہیں ادا ہیں ہمشاہ آثم
- عاشق زار ہوں جز عشق مجھے کام نہیںطالب کفر نہیں تابع اسلام نہیںشاہ آثم
- عجب تو نے جلوہ دکھایا مجھےکہ عالم میں پھر کچھ نہ بھایا مجھےشاہ آثم
- عشق کے اقلیم میں چال و چلن کچھ اور ہےہے نرالا ڈھنگ واں کا اور عجائب طور ہےشاہ آثم
- قید دل سے ہے مری کاکل پیچاں نازاںاور مرے قتل سے ہے خنجر مژگاں نازاںشاہ آثم
- کون و مکاں میں یارو آباد ہیں تو ہم ہیںاس ارض اور سما کی بنیاد ہیں تو ہم ہیںشاہ آثم
- کوئی دم تھمتا نہیں باران اشکالاماں از چشم پر طوفان اشکشاہ آثم
- کیا کہوں تم سے میں یارو کون ہوںہوں سراپا قیس صحرائے جنوںشاہ آثم
- لشکر عشق آ پڑا ہے ملک دل پر ٹوٹ ٹوٹکان میں آتی نہیں ہے جز صدائے لوٹ لوٹشاہ آثم
- مجھے ساقیٔ چشم یار نے عجب ایک جام پلا دیاکہ نشہ نے جس کے غم جہاں مرے دل سے صاف بھلا دیاشاہ آثم
- ہے دل کو میرے عارض جاناں سے ارتباطبلبل کو جس طرح ہو گلستاں سے ارتباطشاہ آثم
- ہے عیاں روئے یار آنکھوں میںچھائی ہے کیا بہار آنکھوں میںشاہ آثم
- ہے فنا بسم اللہ دیوان عشقآفرینہا بر سبق خوانان عشقشاہ آثم