Poetry

Poet
Meter
Clear
  1. اٹھی ہے جب سے دل میں مرے عشق کی ترنگشادی و غم ہیں آگے مرے دونوں ایک رنگشاہ آثم
  2. اس دل میں اگر جلوۂ دل دار نہ ہوتازنہار یہ دل مظہر اسرار نہ ہوتاشاہ آثم
  3. اسلام اور کفر ہمارا ہی نام ہےکعبہ کنشت دونوں میں اپنا مقام ہےشاہ آثم
  4. افسانہ مرے دل کا دل آزار سے کہہ دوبلبل کے ذرا درد کو گلزار سے کہہ دوشاہ آثم
  5. بندۂ عشق ہوں جز یار مجھے کام نہیںخواہش ننگ نہیں کچھ ہوس نام نہیںشاہ آثم
  6. بہ چشم حقیقت جہاں دیکھتا ہوںمیں جاناں کا جلوہ عیاں دیکھتا ہوںشاہ آثم
  7. بے خودی میں عجب مزا دیکھاسر مخفی کو برملا دیکھاشاہ آثم
  8. دستیاب اس کو ہوا جب سے ہے گلدستۂ داغبلبل دل کا نہیں ملتا ہے زنہار دماغشاہ آثم
  9. سن لیوے اگر تو مری دل دار کی آوازہرگز نہ سنے پھر کبھوں مزمار کی آوازشاہ آثم
  10. شکل جانانہ جا بجا ہیں ہمکہیں ناز اور کہیں ادا ہیں ہمشاہ آثم
  11. عاشق زار ہوں جز عشق مجھے کام نہیںطالب کفر نہیں تابع اسلام نہیںشاہ آثم
  12. عجب تو نے جلوہ دکھایا مجھےکہ عالم میں پھر کچھ نہ بھایا مجھےشاہ آثم
  13. عشق کے اقلیم میں چال و چلن کچھ اور ہےہے نرالا ڈھنگ واں کا اور عجائب طور ہےشاہ آثم
  14. قید دل سے ہے مری کاکل پیچاں نازاںاور مرے قتل سے ہے خنجر مژگاں نازاںشاہ آثم
  15. کون و مکاں میں یارو آباد ہیں تو ہم ہیںاس ارض اور سما کی بنیاد ہیں تو ہم ہیںشاہ آثم
  16. کوئی دم تھمتا نہیں باران اشکالاماں از چشم پر طوفان اشکشاہ آثم
  17. کیا کہوں تم سے میں یارو کون ہوںہوں سراپا قیس صحرائے جنوںشاہ آثم
  18. لشکر عشق آ پڑا ہے ملک دل پر ٹوٹ ٹوٹکان میں آتی نہیں ہے جز صدائے لوٹ لوٹشاہ آثم
  19. مجھے ساقیٔ چشم یار نے عجب ایک جام پلا دیاکہ نشہ نے جس کے غم جہاں مرے دل سے صاف بھلا دیاشاہ آثم
  20. ہے دل کو میرے عارض جاناں سے ارتباطبلبل کو جس طرح ہو گلستاں سے ارتباطشاہ آثم
  21. ہے عیاں روئے یار آنکھوں میںچھائی ہے کیا بہار آنکھوں میںشاہ آثم
  22. ہے فنا بسم اللہ دیوان عشقآفرینہا بر سبق خوانان عشقشاہ آثم