Poetry
- بے سبب ہم سے وہ بیزار نظر آتے ہیںدکھ کے ہر چار سو انبار نظر آتے ہیںSabiha Khan
- جو اس کا کھیل تھا یا دل لگی تھیوہی میرے لئے دل کی لگی تھیSabiha Khan
- خواب آنکھوں میں سجانا بھی ضروری ٹھہرازندہ رہنے کا بہانہ بھی ضروری ٹھہراSabiha Khan
- خود کو اہل وفا سمجھتے ہیںاوروں کو بے وفا سمجھتے ہیںSabiha Khan
- کام ہے ان کا جفا وہ با وفا کہنے کو ہیںدیتے ہیں جو درد دل اہل شفا کہنے کو ہیںSabiha Khan
- ہے کھیل جاری ازل سے یہ اوج و پستی کاعروج جس کا کبھی تھا زوال ہے اس کاSabiha Khan
- یہی کاغذ یہی قلم ہوگاروز اک واقعہ رقم ہوگاSabiha Khan