Poetry

Poet
Meter
Clear
  1. آج گزرے ہوئے لمحوں کو پکارا جائےدل کو پھر خون تمنا سے سنوارا جائےSaba Jayasi
  2. اور کس طرح اسے کوئی قبا دی جائےایک تصویر ہی پتھر پہ بنا دی جائےSaba Jayasi
  3. بوئے خوش کی طرح ہر سمت بکھر جاؤں گاآہنی ہاتھوں سے اب کوئی دبا دے مجھ کوSaba Jayasi
  4. کہاں پہ بچھڑے تھے ہم لوگ کچھ پتہ مل جائےتمہاری طرح اگر کوئی دوسرا مل جائےSaba Jayasi
  5. ہم نے خاک در محبوب جو چہرے پہ ملیقصۂ درد چھڑا بات سے پھر بات چلیSaba Jayasi
  6. ہو گئی ساری پشیمانی عبثاپنی ہستی ہم نے پہچانی عبثSaba Jayasi