Poetry
- آج گزرے ہوئے لمحوں کو پکارا جائےدل کو پھر خون تمنا سے سنوارا جائےSaba Jayasi
- اور کس طرح اسے کوئی قبا دی جائےایک تصویر ہی پتھر پہ بنا دی جائےSaba Jayasi
- بوئے خوش کی طرح ہر سمت بکھر جاؤں گاآہنی ہاتھوں سے اب کوئی دبا دے مجھ کوSaba Jayasi
- کہاں پہ بچھڑے تھے ہم لوگ کچھ پتہ مل جائےتمہاری طرح اگر کوئی دوسرا مل جائےSaba Jayasi
- ہم نے خاک در محبوب جو چہرے پہ ملیقصۂ درد چھڑا بات سے پھر بات چلیSaba Jayasi
- ہو گئی ساری پشیمانی عبثاپنی ہستی ہم نے پہچانی عبثSaba Jayasi