کہاں پہ بچھڑے تھے ہم لوگ کچھ پتہ مل جائے
Saba Jayasiکہاں پہ بچھڑے تھے ہم لوگ کچھ پتہ مل جائے
تمہاری طرح اگر کوئی دوسرا مل جائے
ہزاروں نقش نہاں ہوں گے اس کے سینے میں
کبھی کبھی تو یہ آئینہ بولتا مل جائے
جلو میں لے کے چلیں سارے ناتمام سے خواب
نہ جانے کس جگہ عمر گریز پا مل جائے
نہ جانے کیا کرے امروز کا یہ سناٹا
ہمارے ماضی کا اک لمحہ چیختا مل جائے
شکست و ریخت کی دنیا میں ہوں تو خواہش ہے
خیال بکھرا ہوا جسم ٹوٹتا مل جائے
میں نذر کر دوں اسے یہ لہولہان بدن
فریب خوردہ عقیدت کا قافلہ مل جائے
اگرچہ حد نظر تک دھواں دھواں ہے فضا
اسی دیار میں ممکن ہے پھر صباؔ مل جائے