ہو گئی ساری پشیمانی عبث

Saba Jayasi

ہو گئی ساری پشیمانی عبث

اپنی ہستی ہم نے پہچانی عبث

اب نکلتا ہی نہیں صورت سے عکس

دل کی یہ آئینہ سامانی عبث

آنکھ پتھر کی طرح ساکت ہو جب

قلزم خوں کی یہ جولانی عبث

زندگی ہے ریگ زار بے کراں

دیدۂ بے تاب طغیانی عبث

ملنے پر حیران ہونا تھا صباؔ

چھوٹ کر ان سے یہ حیرانی عبث