بوئے خوش کی طرح ہر سمت بکھر جاؤں گا
Saba Jayasiبوئے خوش کی طرح ہر سمت بکھر جاؤں گا
آہنی ہاتھوں سے اب کوئی دبا دے مجھ کو
میں تو مدت سے چلا آتا ہوں پیچھے پیچھے
گردش وقت کبھی رک کے صدا دے مجھ کو
دن تو سارا ہی کٹا مثل چراغ کشتہ
گرمیٔ جسم سر شام جلا دے مجھ کو
تم مجھے دیکھ کے جو بات کبھی کہہ نہ سکے
کیا یہ ممکن نہیں آئینہ بتا دے مجھ کو
جن کو پانے سے حقیقت بھی فسانہ بن جائے
اب صباؔ ایسے سرابوں کا پتا دے مجھ کو