Poetry
- بس اسی حد تک جہان رنگ و بو اچھا لگااک جوان سرو قد اک خوبرو اچھا لگاRafeeq Jabir (b. 1931)
- پہلے جو تھا وہی ہے حال میاںعشق کو ہے کہاں زوال میاںRafeeq Jabir (b. 1931)
- درد ایسا کہ دوا ہو جیسےآج کچھ حد سے سوا ہو جیسےRafeeq Jabir (b. 1931)
- ذکر و ورد و دعا سے بہتر ہےمے کشی ہر ریا سے بہتر ہےRafeeq Jabir (b. 1931)
- زیست کی تاریک راہوں میں دیا کوئی نہیںاس سفر میں جز غم دل رہنما کوئی نہیںRafeeq Jabir (b. 1931)
- غم دوراں کا مداوا غم جاناں بھی نہیںزیست دشوار نہیں ہے تو کچھ آساں بھی نہیںRafeeq Jabir (b. 1931)
- کتاب زیست کا عنواں بدل جاتا تو اچھا تھادل وحشی کسی صورت بہل جاتا تو اچھا تھاRafeeq Jabir (b. 1931)
- کوئی بتلاؤ کہ یہ ناؤ کہاں ٹھہرے گیکب قضا آئے گی کب عمر رواں ٹھہرے گیRafeeq Jabir (b. 1931)
- مہرباں کس پہ ہیں اب اہل جفا میرے بعدکس کے خرمن پہ گری برق بلا میرے بعدRafeeq Jabir (b. 1931)
- میرے جنون شوق کا عالم ہی اور تھاوہ ابتدائے عشق کا موسم ہی اور تھاRafeeq Jabir (b. 1931)
- ہجر انعام وفا ہو جیسےجرم الفت کی سزا ہو جیسےRafeeq Jabir (b. 1931)
- اے منڈیلا تری بے باک قیادت کو سلامسچ ہے انسان کی توقیر بڑھا دی تو نےRafeeq Jabir (b. 1931)