Poetry
- آرزوئیں جل گئیں شوق فراواں جل گیابجھ گیا دل زندگی کا ساز و ساماں جل گیاQaisar Amravatwi (1894–1966)
- برنگ نکہت گل ہے چمن میں آشیاں اپناکسی کے راز داں ہم ہیں نہ کوئی رازداں اپناQaisar Amravatwi (1894–1966)
- خدا کو بھولے نہ جب تک ہمیں خدا نہ ملایہ مدعا بھی بجز ترک مدعا نہ ملاQaisar Amravatwi (1894–1966)
- شمع محفل ہو کے بھی گرویدۂ محفل نہیںمیں ہوں دنیا میں مگر دنیا میں میرا دل نہیںQaisar Amravatwi (1894–1966)
- عشق کیا ہے غم ہستی کا فنا ہو جاناپیکر خاک کا مٹ مٹ کے خدا ہو جاناQaisar Amravatwi (1894–1966)
- فریب رنگ نہ دے جلوۂ بہار مجھےعزیز تر ہیں چمن میں گلوں سے خار مجھےQaisar Amravatwi (1894–1966)
- امنگیں دل سے اٹھ اٹھ کر تخیل میں سنورتی ہیںمرے ظلمت کدہ میں عرش سے حوریں اترتی ہیںQaisar Amravatwi (1894–1966)
- بہت عزیز ہے مجھ کو وطن عزیز وطنوطن کی خاک ہے عنبر مری نگاہوں میںQaisar Amravatwi (1894–1966)
- تجھ کو بھی کچھ خبر ہے دنیا بنانے والےیہ کارگاہ ہستی بازار اوج و پستیQaisar Amravatwi (1894–1966)
- نہ اضطراب غزنوی نہ مشرب ایاز ہےنہ خون میں حرارتیں نہ سوز ہے نہ ساز ہےQaisar Amravatwi (1894–1966)