Poetry
- اے کائنات تیرے سہارے ہمیں تو ہیںتیرے نظر نواز اشارے ہمیں تو ہیںParkash Nath Parvez (b. 1930)
- پیار کے بندھن کاٹ رہے ہیں پریم کا رشتہ توڑ رہے ہیںشہر محبت کے باشندے شہر محبت چھوڑ رہے ہیںParkash Nath Parvez (b. 1930)
- حسن پابند جفا ہو جیسےیہ کوئی خاص ادا ہو جیسےParkash Nath Parvez (b. 1930)
- خوب تھیں میکدے کی فضائیںرہ گئیں چھٹ کے غم کی گھٹائیںParkash Nath Parvez (b. 1930)
- دل میں اک درد نہاں ہو تو غزل ہوتی ہےسیل جذبات رواں ہو تو غزل ہوتی ہےParkash Nath Parvez (b. 1930)
- رہ طلب میں ہمیں غم پہ غم نظر آئےبقدر ذوق مگر پھر بھی کم نظر آئےParkash Nath Parvez (b. 1930)
- ساز آلام پہ دل نغمہ سرا ہوتا ہےاے محبت یہ ترے دور میں کیا ہوتا ہےParkash Nath Parvez (b. 1930)
- شام فرقت ملا یہ سہارا مجھےبارہا بے کسی نے پکارا مجھےParkash Nath Parvez (b. 1930)
- صحرائے زندگی کے لئے نور دیدہ ہوںکانٹا سہی مگر میں گل نو دمیدہ ہوںParkash Nath Parvez (b. 1930)
- گلشن سے آئے ہیں نہ بیاباں سے آئے ہیںاک ماہ وش کے حسن فروزاں کے فیض سےParkash Nath Parvez (b. 1930)
- محو ہے حسن کی اداؤں میںعشق رہتا ہے کن ہواؤں میںParkash Nath Parvez (b. 1930)
- یک بیک جو کسی کا خیال آ گیاروح بے خود ہوئی دل کو حال آ گیاParkash Nath Parvez (b. 1930)
- یہ قدرت کے ہاتھوں کے دل کش صنمکہیں دیکھ کر بت نہ بن جائیں ہمParkash Nath Parvez (b. 1930)