Poetry
- افق پہ دودھیا سایہ جو پاؤں دھرنے لگامہیب رات کا شیرازہ ہی بکھرنے لگاP P Srivastava Rind (b. 1950)
- اندھیرے بند کمروں میں پڑے تھےاجالے سیر پر نکلے ہوئے تھےP P Srivastava Rind (b. 1950)
- اندھیرے ڈھونڈنے نکلے کھنڈر کیوںخدا جانے ہوئے یہ در بدر کیوںP P Srivastava Rind (b. 1950)
- ایسے بھی کچھ لمحے یارو آئیں گےہم مشکوک نظر سے دیکھے جائیں گےP P Srivastava Rind (b. 1950)
- بے تعلق روح کا جب جسم سے رشتہ ہواگھر میں لا وارث پس منظر کا سناٹا ہواP P Srivastava Rind (b. 1950)
- پیش منظر جو تماشے تھے پس منظر بھی تھےہم ہی تھے مال غنیمت ہم ہی غارت گر بھی تھےP P Srivastava Rind (b. 1950)
- رات کے گنبد میں یادوں کا بسیرا ہو گیا ہےچاند کی قندیل جلتے ہی اجالا ہو گیا ہےP P Srivastava Rind (b. 1950)
- روشنی بھر خلا پہ بار تھے ہمدھند منظر پس غبار تھے ہمP P Srivastava Rind (b. 1950)
- فضا میں کرب کا احساس گھولتی ہوئی راتہوس کی کھڑکیاں دروازے کھولتی ہوئی راتP P Srivastava Rind (b. 1950)
- مانا کہ زلزلہ تھا یہاں کم بہت ہی کمبستی میں بچ گئے تھے مکاں کم بہت ہی کمP P Srivastava Rind (b. 1950)
- ممتا بھری نگاہ نے روکا تو ڈر لگاجب بھی شکار زین سے باندھا تو ڈر لگاP P Srivastava Rind (b. 1950)
- نشاط درد کے موسم میں گر نمی کم ہےفضا کے برگ شفق پر بھی تازگی کم ہےP P Srivastava Rind (b. 1950)
- نیم کے پتوں کا زخموں کو دھواں دے دیجئےپھر مری آنکھوں کو پہرے داریاں دے دیجئےP P Srivastava Rind (b. 1950)
- ہم دشت بے کراں کی اذاں ہو گئے تو کیاوحشت میں اب کی بار زیاں ہو گئے تو کیاP P Srivastava Rind (b. 1950)
- خواہشوں کی آنچ میں تپتے بدن کی لذتیں ہیںاور وحشی رات ہے گمراہیاں سر پر اٹھائےP P Srivastava Rind (b. 1950)