Poetry
- آنکھوں سے مناظر کا تسلسل نہیں ٹوٹامیں لٹ گیا پر تیرا تغافل نہیں ٹوٹاNadeem Mahir (b. 1970)
- ایک خوف و ہراس پانی میںسارے منظر اداس پانی میںNadeem Mahir (b. 1970)
- بام و در پر رینگتی پرچھائیاںمجھ سے اب مانوس ہیں تنہائیاںNadeem Mahir (b. 1970)
- تری یادوں کی نقاشی کھرچ کر پھینک آئے ہیںجھلستی ریت پر ہم اک سمندر پھینک آئے ہیںNadeem Mahir (b. 1970)
- زخموں کو کریدا ہے تو ماضی نکل آیاسوکھے ہوئے دریاؤں سے پانی نکل آیاNadeem Mahir (b. 1970)
- زمین و آسماں کی ساری پرتیں چیخ اٹھتی ہیںوہ واحد لم یزل ہے سب دلیلیں چیخ اٹھتی ہیںNadeem Mahir (b. 1970)
- سورج اور مہتاب بکھرتے جاتے ہیںجینے کے اسباب بکھرتے جاتے ہیںNadeem Mahir (b. 1970)
- گرتے گرتے سنبھل رہا ہوں میںدسترس سے نکل رہا ہوں میںNadeem Mahir (b. 1970)
- گرد و غبار یوں بڑھا چہرہ بکھر گیاملبوس تھا میں جس میں لبادہ بکھر گیاNadeem Mahir (b. 1970)
- ہم بزرگوں کی آن چھوڑ آئےخاندانی مکان چھوڑ آئےNadeem Mahir (b. 1970)