Poetry
- دکھا اے ناخن غم لطف باہم ایسے ساماں پرگریباں کا ہو منہ دامن پہ دامن کا گریباں پرمنشی خیراتی لال شگفتہ
- گر تعلی پر ہے وہم امتحان مے فروشبے نشاں ہو کر نکالیں گے نشان مے فروشمنشی خیراتی لال شگفتہ
- مضمون عشق ذہن ستم گر میں آ گیادریا سمٹ کے حلقۂ ساغر میں آ گیامنشی خیراتی لال شگفتہ
- نیم جاں ہوں زندگی دود چراغ کشتہ ہےمیری ہستی صورت بود چراغ کشتہ ہےمنشی خیراتی لال شگفتہ
- ہو اگر مد نظر گلشن میں اے گلفام رقصصورت بسمل دکھائے بلبل ناکام رقصمنشی خیراتی لال شگفتہ
- اس بت کو دل دکھا کے کلیجہ دکھا دیااسباب اپنی ذات کا سارا دکھا دیامنشی خیراتی لال شگفتہ
- مصرعے پہ ان کے مصرعۂ قد کا گماں ہوااک طبقہ بیت کا طبق آسمان ہوامنشی خیراتی لال شگفتہ