Poetry
- اثر آہ کا گر دکھائیں گے ہمابھی کھینچ کر تم کو لائیں گے ہممیر مہدی مجروح
- اس کے جو جو کہ فوائد ہیں خود دیکھتے جاؤسچ کہا ہے یہ کسی نے کہ پیو اور پلاؤمیر مہدی مجروح
- اس کے نبھنے کے کچھ نہیں اسبابوہ تغافل شعار میں بے تابمیر مہدی مجروح
- ایک سے ربط ایک سے ہے بگاڑروز ہے واں یہی اکھاڑ پچھاڑمیر مہدی مجروح
- بس کہ اک جنس رائیگاں ہوں میںجتنا ارزاں بکوں گراں ہوں میںمیر مہدی مجروح
- حرف تم اپنی نزاکت پہ نہ لانا ہرگزہاتھ بیداد و ستم سے نہ اٹھانا ہرگزمیر مہدی مجروح
- خانماں سوز ماسوا ہوں میںاپنے سائے سے بھی جدا ہوں میںمیر مہدی مجروح
- گریباں چاک ہیں گل بوستاں میںاثر کتنا ہے بلبل کی فغاں میںمیر مہدی مجروح
- مانگیں نہ ہم بہشت نہ ہو واں اگر شرابدوزخ میں ڈال دیجئے دیجے مگر شرابمیر مہدی مجروح
- میرے دل میں تو ہر زماں ہو تمچشم ظاہر سے کیوں نہاں ہو تممیر مہدی مجروح
- نہ کیوں تیر نظر گزرے جگر سےکہیں یہ وار رکتے ہیں سپر سےمیر مہدی مجروح
- نہ وہ نالوں کی شورش ہے نہ غل ہے آہ و زاری کاوہ اب پہلا سا ہنگامہ نہیں ہے بے قراری کامیر مہدی مجروح
- نیچی نظروں کے وار آنے لگےلو بس اب جان و دل ٹھکانے لگےمیر مہدی مجروح
- وہ کہاں جلوۂ جاں بخش بتان دہلیکیوں کہ جنت پہ کیا جانے گمان دہلیمیر مہدی مجروح
- ہم اپنا جو قصہ سنانے لگےوہ بولے کہ پھر سر پھرانے لگےمیر مہدی مجروح
- یہ جو چپکے سے آئے بیٹھے ہیںلاکھ فتنے اٹھائے بیٹھے ہیںمیر مہدی مجروح
- رہبان کا قیس کا محبوب ہے تواور برہمن و شیخ کا مرغوب ہے تومیر مہدی مجروح
- ہے ان کی نزاکتوں کا پانا مشکل کیا کیجے بیاںسمجھے ہیں وہ پاؤں کا ہلانا مشکل یہ تاب کہاںمیر مہدی مجروح
- جو نخل ہو خشک اس کا پھلنا کیا ہےدنیا ہی نہیں تو کار دنیا کیا ہےمیر مہدی مجروح
- جو ہے سو پست سب سے عالی تو ہےشایان صفات ذوالجلای تو ہےمیر مہدی مجروح
- چلنے کا تو ہو گیا بہانہ تم کوفتنہ ہے ہر اک طرح اٹھانا تم کومیر مہدی مجروح
- زوروں پہ ہے روز ناتوانی میریبد تر پیری سے ہے جوانی میریمیر مہدی مجروح
- میں خاک تھا آدمی بنایا تو نےاور عیب معاصی کو چھپایا تو نےمیر مہدی مجروح
- سر کو تن سے مرے جدا کیجےیہ بھی جھگڑا ہے فیصلہ کیجےمیر مہدی مجروح
- غیروں کو بھلا سمجھے اور مجھ کو برا جاناسمجھے بھی تو کیا سمجھے جانا بھی تو کیا جانامیر مہدی مجروح
- کل نشے میں تھا وہ بت مسجد میں گر آ جاتاایماں سے کہو یارو پھر کس سے رہا جاتامیر مہدی مجروح