Poetry

Poet
Meter
Clear
  1. اثر آہ کا گر دکھائیں گے ہمابھی کھینچ کر تم کو لائیں گے ہممیر مہدی مجروح
  2. اس کے جو جو کہ فوائد ہیں خود دیکھتے جاؤسچ کہا ہے یہ کسی نے کہ پیو اور پلاؤمیر مہدی مجروح
  3. اس کے نبھنے کے کچھ نہیں اسبابوہ تغافل شعار میں بے تابمیر مہدی مجروح
  4. ایک سے ربط ایک سے ہے بگاڑروز ہے واں یہی اکھاڑ پچھاڑمیر مہدی مجروح
  5. بس کہ اک جنس رائیگاں ہوں میںجتنا ارزاں بکوں گراں ہوں میںمیر مہدی مجروح
  6. حرف تم اپنی نزاکت پہ نہ لانا ہرگزہاتھ بیداد و ستم سے نہ اٹھانا ہرگزمیر مہدی مجروح
  7. خانماں سوز ماسوا ہوں میںاپنے سائے سے بھی جدا ہوں میںمیر مہدی مجروح
  8. گریباں چاک ہیں گل بوستاں میںاثر کتنا ہے بلبل کی فغاں میںمیر مہدی مجروح
  9. مانگیں نہ ہم بہشت نہ ہو واں اگر شرابدوزخ میں ڈال دیجئے دیجے مگر شرابمیر مہدی مجروح
  10. میرے دل میں تو ہر زماں ہو تمچشم ظاہر سے کیوں نہاں ہو تممیر مہدی مجروح
  11. نہ کیوں تیر نظر گزرے جگر سےکہیں یہ وار رکتے ہیں سپر سےمیر مہدی مجروح
  12. نہ وہ نالوں کی شورش ہے نہ غل ہے آہ و زاری کاوہ اب پہلا سا ہنگامہ نہیں ہے بے قراری کامیر مہدی مجروح
  13. نیچی نظروں کے وار آنے لگےلو بس اب جان و دل ٹھکانے لگےمیر مہدی مجروح
  14. وہ کہاں جلوۂ جاں بخش بتان دہلیکیوں کہ جنت پہ کیا جانے گمان دہلیمیر مہدی مجروح
  15. ہم اپنا جو قصہ سنانے لگےوہ بولے کہ پھر سر پھرانے لگےمیر مہدی مجروح
  16. یہ جو چپکے سے آئے بیٹھے ہیںلاکھ فتنے اٹھائے بیٹھے ہیںمیر مہدی مجروح
  17. رہبان کا قیس کا محبوب ہے تواور برہمن و شیخ کا مرغوب ہے تومیر مہدی مجروح
  18. ہے ان کی نزاکتوں کا پانا مشکل کیا کیجے بیاںسمجھے ہیں وہ پاؤں کا ہلانا مشکل یہ تاب کہاںمیر مہدی مجروح
  19. جو نخل ہو خشک اس کا پھلنا کیا ہےدنیا ہی نہیں تو کار دنیا کیا ہےمیر مہدی مجروح
  20. جو ہے سو پست سب سے عالی تو ہےشایان صفات ذوالجلای تو ہےمیر مہدی مجروح
  21. چلنے کا تو ہو گیا بہانہ تم کوفتنہ ہے ہر اک طرح اٹھانا تم کومیر مہدی مجروح
  22. زوروں پہ ہے روز ناتوانی میریبد تر پیری سے ہے جوانی میریمیر مہدی مجروح
  23. میں خاک تھا آدمی بنایا تو نےاور عیب معاصی کو چھپایا تو نےمیر مہدی مجروح
  24. سر کو تن سے مرے جدا کیجےیہ بھی جھگڑا ہے فیصلہ کیجےمیر مہدی مجروح
  25. غیروں کو بھلا سمجھے اور مجھ کو برا جاناسمجھے بھی تو کیا سمجھے جانا بھی تو کیا جانامیر مہدی مجروح
  26. کل نشے میں تھا وہ بت مسجد میں گر آ جاتاایماں سے کہو یارو پھر کس سے رہا جاتامیر مہدی مجروح