Poetry
- اب معتقد گردش دوراں نہ رہے ہمقابل ترے اے دیدۂ جاناں نہ رہے ہمLalan Chaudhary (b. 1923)
- اس بت سے دل لگا کے بہت سوچتے رہےصبر و سکوں لٹا کے بہت سوچتے رہےLalan Chaudhary (b. 1923)
- اس بت سے مل کر اس دل ناداں کو کیا ہواکیوں آہ و زاری ہے لب خنداں کو کیا ہواLalan Chaudhary (b. 1923)
- اس غم کی دھوپ میں مجھے پروائیاں نہ دوجلنے دو اپنی زلف کی پرچھائیاں نہ دوLalan Chaudhary (b. 1923)
- اسیران عشق بتاں اور بھی ہیںنہیں میں ہی محو فغاں اور بھی ہیںLalan Chaudhary (b. 1923)
- خوشی اپنی نہ اب تو لوٹتی معلوم ہوتی ہےانہیں مل کر انہیں کی ہو گئی معلوم ہوتی ہےLalan Chaudhary (b. 1923)
- صہبائے نظر کے اس چھلکانے کو کیا کہئےاس شوخ کی آنکھوں کے پیمانے کو کیا کہئےLalan Chaudhary (b. 1923)
- گلزار میں رفتار صبا اور ہی کچھ ہےاس شوخ کے چلنے کی ادا اور ہی کچھ ہےLalan Chaudhary (b. 1923)
- نصیب اپنا ذرا آزما کے دیکھیں گےچراغ شوق ہوا میں جلا کے دیکھیں گےLalan Chaudhary (b. 1923)