Poetry
- احساس قربتوں کا دلاتے ہوئے تجھےہم ڈوبنے لگے ہیں بچاتے ہوئے تجھےKalicharan Singh
- تمام وحشتیں میری بڑھا کے چھوڑ گیاوہ مجھ کو صحرا میں دریا دکھا کے چھوڑ گیاKalicharan Singh
- جانے کیا درمیان ٹوٹ گیاچھت تو ہے پر مکان ٹوٹ گیاKalicharan Singh
- دیار یاد میں لانی پڑی تری تصویرپھر آنسوؤں سے بنانی پڑی تری تصویرKalicharan Singh
- فلک کی رہنمائی دے رہے ہیںپرندے کو رہائی دے رہے ہیںKalicharan Singh
- ہم یہاں غم سے ہیں دو چار کہیں اور چلیںآپ بھی دکھتے ہیں بیمار کہیں اور چلیںKalicharan Singh