Poetry
- اے بت ہیں حسن میں تری مشہور پنڈلیاںایسی کہاں سے لائے پری حور پنڈلیاںKalb-e-husain Nadir (1805–1878)
- پھولوں کو اپنے پاؤں سے ٹھکرائے جاتے ہیںمل کر وہ عطر باغ میں اترائے جاتے ہیںKalb-e-husain Nadir (1805–1878)
- تشریف شب وعدہ جو وہ لائے ہوئے ہیںسر خم ہے نظر نیچی ہے شرمائے ہوئے ہیںKalb-e-husain Nadir (1805–1878)
- دل آنکھوں سے عاشق بچائے ہوئے ہیںہرن کو وہ چیتا بنائے ہوئے ہیںKalb-e-husain Nadir (1805–1878)
- دل مجھے کفر آشنا نہ کرےبندہ بت کا ہوں میں خدا نہ کرےKalb-e-husain Nadir (1805–1878)
- روح تنہا گئی جنت کو سبکساری سےچار کے کاندھے اٹھا جسم گرانباری سےKalb-e-husain Nadir (1805–1878)
- سر کٹا کر صفت شمع جو مر جاتے ہیںنام روشن وہی آفاق میں کر جاتے ہیںKalb-e-husain Nadir (1805–1878)
- کوئی پری ہو اگر ہمکنار ہولی میںتو اب کی سال ہو دونی بہار ہولی میںKalb-e-husain Nadir (1805–1878)
- اس قدر محو نہ ہوں آپ خود آرائی میںداغ لگ جائے نہ آئینۂ یکتائی میںKalb-e-husain Nadir (1805–1878)
- اک بات پر قرار انہیں رات بھر نہیںدو دو پہر جو ہاں ہے تو دو دو پہر نہیںKalb-e-husain Nadir (1805–1878)
- پورا کریں گے ہولی میں کیا وعدۂ وصالجن کو ابھی بسنت کی اے دل خبر نہیںKalb-e-husain Nadir (1805–1878)
- پھر نہ باقی رہے غبار کبھیہولی کھیلو جو خاکساروں میںKalb-e-husain Nadir (1805–1878)
- تری تعریف ہو اے صاحب اوصاف کیا ممکنزبانوں سے دہانوں سے تکلم سے بیانوں سےKalb-e-husain Nadir (1805–1878)
- چالیس جام پی کے دیا ایک جام مےساقی نے خوب راہ نکالی زکوٰۃ کیKalb-e-husain Nadir (1805–1878)
- چلتی تو ہے پر شوخئ رفتار کہاں ہےتلوار میں پازیب کی جھنکار کہاں ہےKalb-e-husain Nadir (1805–1878)
- دریائے شراب اس نے بہایا ہے ہمیشہساقی سے جو کشتی کے طلب گار ہوئے ہیںKalb-e-husain Nadir (1805–1878)
- سبز کپڑوں میں سیہ زلف کی زیبائی ہےدھان کے کھیت میں کیا کالی گھٹا چھائی ہےKalb-e-husain Nadir (1805–1878)
- لوگ کہتے ہیں کہ فن شاعری منحوس ہےشعر کہتے کہتے میں ڈپٹی کلکٹر ہو گیاKalb-e-husain Nadir (1805–1878)
- ناؤ کاغذ کی تن خاکیٔ انساں سمجھوغرق ہو جائیں گی چھینٹا جو پڑا پانی کاKalb-e-husain Nadir (1805–1878)
- وہ اور مرض ہیں کہ شفا ہوتی ہے جن سےاچھے کہیں ان آنکھوں کے بیمار ہوئے ہیںKalb-e-husain Nadir (1805–1878)
- ہو گئے رام جو تم غیر سے اے جان جہاںجل رہی ہے دل پر نور کی لنکا دیکھوKalb-e-husain Nadir (1805–1878)
- ہیں دین کے پابند نہ دنیا کے مقیدکیا عشق نے اس بھول بھلیاں سے نکالاKalb-e-husain Nadir (1805–1878)