Poetry
- آنے میں تیرے دوست بہت دیر ہو گئیبزم حیات اب زبر و زیر ہو گئیJaimini Sarshar (1904–1984)
- بہت خوش تھے ساحل قریب آ گیاسفینہ کنارے سے ٹکرا گیاJaimini Sarshar (1904–1984)
- تیری رحمت نے کر دیا گستاخورنہ پہلے تو میں نہ تھا گستاخJaimini Sarshar (1904–1984)
- جب قوم پر آفت آئی ہو جب ملک پڑا ہو مشکل میںانسان وہ کیا مر مٹنے کا احساس نہ ہو جس کے دل میںJaimini Sarshar (1904–1984)
- دل بنو دل کا مدعا بھی بنوساز بھی ساز کی صدا بھی بنوJaimini Sarshar (1904–1984)
- زندگی چین پا نہیں سکتیموت کو موت آ نہیں سکتیJaimini Sarshar (1904–1984)
- سجدہ اور ان کے آستانے کاحوصلہ دیکھیے زمانہ کاJaimini Sarshar (1904–1984)
- کریں کس لیے ہم کسی کا لحاظکسی کو نہیں جب ہمارا لحاظJaimini Sarshar (1904–1984)
- ہر کسی سے نہ احتراز کرودوست دشمن میں امتیاز کروJaimini Sarshar (1904–1984)