Poetry
- اپنے خوں کو خرچ کیا ہے اور کمایا شہرسارے منظر ٹوٹ گئے اور کام نہ آیا شہرIftikhar Qaisar (b. 1937)
- تری آواز میں بھی کوئی آوازہ نہیں ہوتاتری باتوں سے اب تو کوئی اندازہ نہیں ہوتاIftikhar Qaisar (b. 1937)
- جو ملا کرتی تھی مجھ کو لکڑیوں کی ٹال پرایسی لڑکی آج تک دیکھی نہیں ہے مال پرIftikhar Qaisar (b. 1937)
- خواہشوں کا ورد یوں مت کر پرائے شہر میںفاختہ مر جائے گی گھٹ کر قبائے شہر میںIftikhar Qaisar (b. 1937)
- دور دور تک سناٹا ہے کوئی نہیں ہے پاسآ جا دریا ہونٹ سے لگ جا پی لے میری پیاسIftikhar Qaisar (b. 1937)
- مری آنکھوں کو آنکھوں کا کنارہ کون دے گاسمندر کو سمندر میں سہارا کون دے گاIftikhar Qaisar (b. 1937)
- ہم سے اپنے گاؤں کی مٹی کے گھر چھینے گئےجس طرح شہری پرندوں سے شجر چھینے گئےIftikhar Qaisar (b. 1937)