Poetry

Poet
Meter
Clear
  1. اپنے خوں کو خرچ کیا ہے اور کمایا شہرسارے منظر ٹوٹ گئے اور کام نہ آیا شہرIftikhar Qaisar (b. 1937)
  2. تری آواز میں بھی کوئی آوازہ نہیں ہوتاتری باتوں سے اب تو کوئی اندازہ نہیں ہوتاIftikhar Qaisar (b. 1937)
  3. جو ملا کرتی تھی مجھ کو لکڑیوں کی ٹال پرایسی لڑکی آج تک دیکھی نہیں ہے مال پرIftikhar Qaisar (b. 1937)
  4. خواہشوں کا ورد یوں مت کر پرائے شہر میںفاختہ مر جائے گی گھٹ کر قبائے شہر میںIftikhar Qaisar (b. 1937)
  5. دور دور تک سناٹا ہے کوئی نہیں ہے پاسآ جا دریا ہونٹ سے لگ جا پی لے میری پیاسIftikhar Qaisar (b. 1937)
  6. مری آنکھوں کو آنکھوں کا کنارہ کون دے گاسمندر کو سمندر میں سہارا کون دے گاIftikhar Qaisar (b. 1937)
  7. ہم سے اپنے گاؤں کی مٹی کے گھر چھینے گئےجس طرح شہری پرندوں سے شجر چھینے گئےIftikhar Qaisar (b. 1937)