Poetry
- اس کی اک دنیا ہوں میں اور میری اک دنیا ہے وہدشت میں تنہا ہوں میں اور شہر میں تنہا ہے وہIbrahim Ashk (b. 1951)
- انا نے ٹوٹ کے کچھ فیصلہ کیا ہی نہیںبیان اپنا کبھی مدعا کیا ہی نہیںIbrahim Ashk (b. 1951)
- تری زمیں سے اٹھیں گے تو آسماں ہوں گےہم ایسے لوگ زمانے میں پھر کہاں ہوں گےIbrahim Ashk (b. 1951)
- دنیا لٹی تو دور سے تکتا ہی رہ گیاآنکھوں میں گھر کے خواب کا نقشہ ہی رہ گیاIbrahim Ashk (b. 1951)
- دیکھا تو کوئی اور تھا سوچا تو کوئی اورجب آ کے ملا اور تھا چاہا تو کوئی اورIbrahim Ashk (b. 1951)
- رات بھر تنہا رہا دن بھر اکیلا میں ہی تھاشہر کی آبادیوں میں اپنے جیسا میں ہی تھاIbrahim Ashk (b. 1951)
- روبرو ان کے کوئی حرف ادا کیا کرتےدرد تو ہم کو چھپانا تھا صدا کیا کرتےIbrahim Ashk (b. 1951)
- زندگی وادی و صحرا کا سفر ہے کیوں ہےاتنی ویران مری راہگزر ہے کیوں ہےIbrahim Ashk (b. 1951)
- شیشے کا آدمی ہوں مری زندگی ہے کیاپتھر ہیں سب کے ہاتھ میں مجھ کو کمی ہے کیاIbrahim Ashk (b. 1951)
- کریں سلام اسے تو کوئی جواب نہ دےالٰہی اتنا بھی اس شخص کو حجاب نہ دےIbrahim Ashk (b. 1951)
- گلشن میں لے کے چل کسی صحرا میں لے کے چلاے دل مگر سکون کی دنیا میں لے کے چلIbrahim Ashk (b. 1951)
- لبوں پر پیاس ہو تو آس کے بادل بھرے رکھیوسرابوں کے سفر میں اس طرح گلشن ہرے رکھیوIbrahim Ashk (b. 1951)
- مجھے نہ دیکھو مرے جسم کا دھواں دیکھوجلا ہے کیسے یہ آباد سا مکاں دیکھوIbrahim Ashk (b. 1951)
- محبتوں میں جو مٹ مٹ کے شاہکار ہواوہ شخص کتنا زمانے میں یادگار ہواIbrahim Ashk (b. 1951)
- مشعل بکف کبھی تو کبھی دل بدست تھامیں سیل تیرگی میں تجلی پرست تھاIbrahim Ashk (b. 1951)
- میں کب رہین ریگ بیابان یاس تھاصد خیمۂ بہار مرے آس پاس تھاIbrahim Ashk (b. 1951)
- نہ کوئے یار میں ٹھہرا نہ انجمن میں رہاادائے ناز سے یہ دل سرائے فن میں رہاIbrahim Ashk (b. 1951)
- محفل یاراں میں دیوانوں کا عالم کچھ نہ پوچھجام ہاتھوں میں اٹھائیں تو چھلکنا چاہیےIbrahim Ashk (b. 1951)
- نہ دل میں کوئی غم رہے نہ میری آنکھ نم رہےہر ایک درد کو مٹا شراب لا شراب دےIbrahim Ashk (b. 1951)