Poetry
- آج کی رات کٹے گی کیوں کر ساز نہ جام نہ تو مہمانصبح تلک کیا جانئے کیا ہو آنکھ لگے یا جائے جانIbn-e-Safi (1928–1980)
- بڑے غضب کا ہے یارو بڑے عذاب کا زخماگر شباب ہی ٹھہرا مرے شباب کا زخمIbn-e-Safi (1928–1980)
- چھلکتی آئے کہ اپنی طلب سے بھی کم آئےہمارے سامنے ساقی بہ ساغر جم آئےIbn-e-Safi (1928–1980)
- ذہن سے دل کا بار اترا ہےپیرہن تار تار اترا ہےIbn-e-Safi (1928–1980)
- راہ طلب میں کون کسی کا اپنے بھی بیگانے ہیںچاند سے مکھڑے رشک غزالاں سب جانے پہچانے ہیںIbn-e-Safi (1928–1980)
- کچھ بھی تو اپنے پاس نہیں جز متاع دلکیا اس سے بڑھ کے اور بھی کوئی ہے امتحاںIbn-e-Safi (1928–1980)
- کچھ تو تعلق کچھ تو لگاؤمیرے دشمن ہی کہلاؤIbn-e-Safi (1928–1980)
- لب و رخسار و جبیں سے ملئےجی نہیں بھرتا کہیں سے ملئےIbn-e-Safi (1928–1980)
- یوں ہی وابستگی نہیں ہوتیدور سے دوستی نہیں ہوتیIbn-e-Safi (1928–1980)
- رات کے پر کیف سناٹے میں بنسی کی صداچاندنی کے سیم گوں شانے پہ لہراتی ہوئیIbn-e-Safi (1928–1980)