Poetry

Poet
Meter
Clear
  1. آج کی رات کٹے گی کیوں کر ساز نہ جام نہ تو مہمانصبح تلک کیا جانئے کیا ہو آنکھ لگے یا جائے جانIbn-e-Safi (1928–1980)
  2. بڑے غضب کا ہے یارو بڑے عذاب کا زخماگر شباب ہی ٹھہرا مرے شباب کا زخمIbn-e-Safi (1928–1980)
  3. چھلکتی آئے کہ اپنی طلب سے بھی کم آئےہمارے سامنے ساقی بہ ساغر جم آئےIbn-e-Safi (1928–1980)
  4. ذہن سے دل کا بار اترا ہےپیرہن تار تار اترا ہےIbn-e-Safi (1928–1980)
  5. راہ طلب میں کون کسی کا اپنے بھی بیگانے ہیںچاند سے مکھڑے رشک غزالاں سب جانے پہچانے ہیںIbn-e-Safi (1928–1980)
  6. کچھ بھی تو اپنے پاس نہیں جز متاع دلکیا اس سے بڑھ کے اور بھی کوئی ہے امتحاںIbn-e-Safi (1928–1980)
  7. کچھ تو تعلق کچھ تو لگاؤمیرے دشمن ہی کہلاؤIbn-e-Safi (1928–1980)
  8. لب و رخسار و جبیں سے ملئےجی نہیں بھرتا کہیں سے ملئےIbn-e-Safi (1928–1980)
  9. یوں ہی وابستگی نہیں ہوتیدور سے دوستی نہیں ہوتیIbn-e-Safi (1928–1980)
  10. رات کے پر کیف سناٹے میں بنسی کی صداچاندنی کے سیم گوں شانے پہ لہراتی ہوئیIbn-e-Safi (1928–1980)