Poetry

Poet
Meter
Clear
  1. اب تو خود سے بھی کچھ ایسا ہے بشر کا رشتہجیسے پرواز سے ٹوٹے ہوئے پر کا رشتہGhaus Mohammad Ghausi (b. 1927)
  2. تمہارا دل تو ہمارے سبھاؤ جیسا ہےہٹا کے چہرے سے چہرہ دکھاؤ جیسا ہےGhaus Mohammad Ghausi (b. 1927)
  3. جو مثل تیر چلا تھا کمان سا خم ہےنگاہ دوست میں تاثیر اسم اعظم ہےGhaus Mohammad Ghausi (b. 1927)
  4. حصار کاسۂ سر توڑ کر نکل آئےطلب ہوئی تھی تو سجدوں کے پر نکل آئےGhaus Mohammad Ghausi (b. 1927)
  5. حیات عشق کو اتنا تو نور فام کریںمہہ‌ و نجوم ادب سے جسے سلام کریںGhaus Mohammad Ghausi (b. 1927)
  6. سب کچھ تو زندگی کی متاع سفر میں ہےجب تم نظر میں ہو تو زمانہ نظر میں ہےGhaus Mohammad Ghausi (b. 1927)
  7. غرور جلوۂ عرفاں ہے دیکھیے کیا ہوبڑے اندھیرے میں انساں ہے دیکھیے کیا ہوGhaus Mohammad Ghausi (b. 1927)
  8. غرور ناز دکھا تجھ میں کتنا جوہر ہےمرا خلوص بھی دریا نہیں سمندر ہےGhaus Mohammad Ghausi (b. 1927)
  9. منتشر شہزاد گان دل کا شیرازہ نہ ہوکاش یاروں کی ہنسی فتنوں کا غمازہ نہ ہوGhaus Mohammad Ghausi (b. 1927)
  10. نہ ہوتے شاد آئین گلستاں دیکھنے والےفسانہ بھی اگر پڑھ لیتے عنواں دیکھنے والےGhaus Mohammad Ghausi (b. 1927)
  11. وہ یقیں پیکر ہے کس کا نور دیدہ کون ہےظلمت شب میں چراغ آسا دمیدہ کون ہےGhaus Mohammad Ghausi (b. 1927)
  12. ہر چند ابھی خود پر ظاہر میں اور مرے احباب نہیںیاروں پہ فدا ہونے والے کم یاب سہی نایاب نہیںGhaus Mohammad Ghausi (b. 1927)