Poetry
- اب تو خود سے بھی کچھ ایسا ہے بشر کا رشتہجیسے پرواز سے ٹوٹے ہوئے پر کا رشتہGhaus Mohammad Ghausi (b. 1927)
- تمہارا دل تو ہمارے سبھاؤ جیسا ہےہٹا کے چہرے سے چہرہ دکھاؤ جیسا ہےGhaus Mohammad Ghausi (b. 1927)
- جو مثل تیر چلا تھا کمان سا خم ہےنگاہ دوست میں تاثیر اسم اعظم ہےGhaus Mohammad Ghausi (b. 1927)
- حصار کاسۂ سر توڑ کر نکل آئےطلب ہوئی تھی تو سجدوں کے پر نکل آئےGhaus Mohammad Ghausi (b. 1927)
- حیات عشق کو اتنا تو نور فام کریںمہہ و نجوم ادب سے جسے سلام کریںGhaus Mohammad Ghausi (b. 1927)
- سب کچھ تو زندگی کی متاع سفر میں ہےجب تم نظر میں ہو تو زمانہ نظر میں ہےGhaus Mohammad Ghausi (b. 1927)
- غرور جلوۂ عرفاں ہے دیکھیے کیا ہوبڑے اندھیرے میں انساں ہے دیکھیے کیا ہوGhaus Mohammad Ghausi (b. 1927)
- غرور ناز دکھا تجھ میں کتنا جوہر ہےمرا خلوص بھی دریا نہیں سمندر ہےGhaus Mohammad Ghausi (b. 1927)
- منتشر شہزاد گان دل کا شیرازہ نہ ہوکاش یاروں کی ہنسی فتنوں کا غمازہ نہ ہوGhaus Mohammad Ghausi (b. 1927)
- نہ ہوتے شاد آئین گلستاں دیکھنے والےفسانہ بھی اگر پڑھ لیتے عنواں دیکھنے والےGhaus Mohammad Ghausi (b. 1927)
- وہ یقیں پیکر ہے کس کا نور دیدہ کون ہےظلمت شب میں چراغ آسا دمیدہ کون ہےGhaus Mohammad Ghausi (b. 1927)
- ہر چند ابھی خود پر ظاہر میں اور مرے احباب نہیںیاروں پہ فدا ہونے والے کم یاب سہی نایاب نہیںGhaus Mohammad Ghausi (b. 1927)