Poetry

Poet
Meter
Clear
  1. اس شعلہ رو سے جب سے مری آنکھ جا لگیکیا جانے تب سے سینہ میں کیا آگ آ لگیGhamgeen Dehlvi (1753–1851)
  2. اس کی صورت کا تصور دل میں جب لاتے ہیں ہمخود بہ خود اپنے سے ہمدم آپ گھبراتے ہیں ہمGhamgeen Dehlvi (1753–1851)
  3. اس کے کوچہ میں گیا میں سو پھر آیا نہ گیامیں وہاں آپ کو ڈھونڈا تو میں پایا نہ گیاGhamgeen Dehlvi (1753–1851)
  4. جو نہ وہم و گمان میں آوےکس طرح تیرے دھیان میں آوےGhamgeen Dehlvi (1753–1851)
  5. شمع رو عاشق کو اپنے یوں جلانا چاہیئےکچھ ہنسانا چاہیئے اور کچھ رلانا چاہیئےGhamgeen Dehlvi (1753–1851)
  6. مجھ سے آزردہ جو اس گل رو کو اب پاتے ہیں لوگاور ہی رنگت سے کچھ کچھ آ کے فرماتے ہیں لوگGhamgeen Dehlvi (1753–1851)
  7. مرا اس کے پس دیوار گھر ہوتا تو کیا ہوتاقضا سے اے فلک گر اس قدر ہوتا تو کیا ہوتاGhamgeen Dehlvi (1753–1851)
  8. مکھڑا وہ بت جدھر کرے گابندہ سجدہ ادھر کرے گاGhamgeen Dehlvi (1753–1851)
  9. میں نے ہر چند کہ اس کوچے میں جانا چھوڑاپر تصور میں مرے اس نے نہ آنا چھوڑاGhamgeen Dehlvi (1753–1851)
  10. نہ پوچھ ہجر میں جو حال اب ہمارا ہےامید وصل ہی پر ان دنوں گزارا ہےGhamgeen Dehlvi (1753–1851)