Poetry
- اس شعلہ رو سے جب سے مری آنکھ جا لگیکیا جانے تب سے سینہ میں کیا آگ آ لگیGhamgeen Dehlvi (1753–1851)
- اس کی صورت کا تصور دل میں جب لاتے ہیں ہمخود بہ خود اپنے سے ہمدم آپ گھبراتے ہیں ہمGhamgeen Dehlvi (1753–1851)
- اس کے کوچہ میں گیا میں سو پھر آیا نہ گیامیں وہاں آپ کو ڈھونڈا تو میں پایا نہ گیاGhamgeen Dehlvi (1753–1851)
- جو نہ وہم و گمان میں آوےکس طرح تیرے دھیان میں آوےGhamgeen Dehlvi (1753–1851)
- شمع رو عاشق کو اپنے یوں جلانا چاہیئےکچھ ہنسانا چاہیئے اور کچھ رلانا چاہیئےGhamgeen Dehlvi (1753–1851)
- مجھ سے آزردہ جو اس گل رو کو اب پاتے ہیں لوگاور ہی رنگت سے کچھ کچھ آ کے فرماتے ہیں لوگGhamgeen Dehlvi (1753–1851)
- مرا اس کے پس دیوار گھر ہوتا تو کیا ہوتاقضا سے اے فلک گر اس قدر ہوتا تو کیا ہوتاGhamgeen Dehlvi (1753–1851)
- مکھڑا وہ بت جدھر کرے گابندہ سجدہ ادھر کرے گاGhamgeen Dehlvi (1753–1851)
- میں نے ہر چند کہ اس کوچے میں جانا چھوڑاپر تصور میں مرے اس نے نہ آنا چھوڑاGhamgeen Dehlvi (1753–1851)
- نہ پوچھ ہجر میں جو حال اب ہمارا ہےامید وصل ہی پر ان دنوں گزارا ہےGhamgeen Dehlvi (1753–1851)