Poetry

Poet
Meter
Clear
  1. پیک خیال بھی ہے عجب کیا جہاں نماآیا نظر وہ پاس جو اپنے سے دور تھاGeorge Puech Shor (1823–1894)
  2. رکے ہے آمد و شد میں نفس نہیں چلتایہی ہے حکم الٰہی تو بس نہیں چلتاGeorge Puech Shor (1823–1894)
  3. یہ فرق جیتے ہی جی تک گدا‌ و شاہ میں ہےوگرنہ بعد فنا مشت خاک راہ میں ہےGeorge Puech Shor (1823–1894)
  4. پیری میں خاک زندگانی کا مزہدانے کا ہے لطف اور نہ پانی کا مزہGeorge Puech Shor (1823–1894)
  5. جب تک ہے شباب سازگار دولتہر قصر میں سو نقش و نگار دولتGeorge Puech Shor (1823–1894)
  6. دولت نے معاونت جو کی تو کیا کیطالع نے مساعدت جو کی تو کیا کیGeorge Puech Shor (1823–1894)
  7. کچھ تیرا ثمر نہ اے جوانی پایاسرما زدہ باغ زندگانی پایاGeorge Puech Shor (1823–1894)
  8. کچھ کام نہیں گبرو مسلماں سے ہمیںہے کفر سے کچھ بحث نہ ایماں سے ہمیںGeorge Puech Shor (1823–1894)
  9. کعبہ میں تو صدق اور صفا کو پایابت خانے میں ناز اور ادا کو پایاGeorge Puech Shor (1823–1894)
  10. کیا وصف لکھوں زلف سیہ کی لٹ کاہر پیچ میں اک دل کو لیا ہے لٹکاGeorge Puech Shor (1823–1894)
  11. گرجا میں گئے تو پارسائی دیکھیاور دیر میں جا کے خود نمائی دیکھیGeorge Puech Shor (1823–1894)
  12. اسی خیال میں دن رات میں تڑپتا ہوںتمہیں قرار بھی دو گے جو بے قرار کیاGeorge Puech Shor (1823–1894)
  13. اک خیال و خواب ہے اے شورؔ یہ بزم جہاںیار اور جام و سبو سب کچھ ہے اور پھر کچھ نہیںGeorge Puech Shor (1823–1894)
  14. اک نظر نے کیا ہے کام تمامآرزو بھی تو تھی یہی دل کیGeorge Puech Shor (1823–1894)
  15. تمہارے عشق میں کیا کیا نہ اختیار کیاکبھی فلک کا کبھی غیر کا وقار کیاGeorge Puech Shor (1823–1894)
  16. جان پر اپنی ہائے کیوں بنتیبات جو مانتے کبھی دل کیGeorge Puech Shor (1823–1894)
  17. جب جوانی گئی چھڑا کر ہاتھاس پہ پیری نہ کچھ چلی دل کیGeorge Puech Shor (1823–1894)
  18. جہاں میں زر کا ہے کارخانہ نہ کوئی اپنا نہ ہے یگانہتلاش دولت میں ہے زمانہ خدا ہی حافظ ہے مفلسی کاGeorge Puech Shor (1823–1894)
  19. دل میں اپنے آرزو سب کچھ ہے اور پھر کچھ نہیںدو جہاں کی جستجو سب کچھ ہے اور پھر کچھ نہیںGeorge Puech Shor (1823–1894)
  20. دور ہم سے ہیں وہ تو کیا ڈر ہےپاس ہے اپنے آرسی دل کیGeorge Puech Shor (1823–1894)
  21. شوق نے کی جو رہبری دل کیمنزل عشق طے ہوئی دل کیGeorge Puech Shor (1823–1894)
  22. عدم سے ہستی میں جب ہم آئے نہ کوئی ہمدرد ساتھ لائےجو اپنے تھے وہ ہوئے پرائے اب آسرا ہے تو بیکسی کاGeorge Puech Shor (1823–1894)
  23. ہے تلاش دو جہاں لیکن خبر اپنی کسےجیتے جی تک جستجو سب کچھ ہے اور پھر کچھ نہیںGeorge Puech Shor (1823–1894)