Poetry
- اس قدر محو تصور ہوں ستم گر تیرامجھ کو غربت میں نظر آنے لگا گھر تیرافروغ حیدرآبادی
- تعلق مدتوں کا ترک اس سے ہو تو کیونکر ہوخدا کے واسطے ناصح نہ اتنا تو مرے سر ہوفروغ حیدرآبادی
- دل نہیں ملنے کا پھر میرا ستم گر ٹوٹ کرچیز یہ ایسی نہیں جڑ جائے گی جو پھوٹ کرفروغ حیدرآبادی
- رنگ دیکھا تری طبیعت کاہو چکا امتحاں محبت کافروغ حیدرآبادی
- غبار خاطر ناشاد ہوں میںکہ مٹنے کے لئے آباد ہوں میںفروغ حیدرآبادی
- کسی صورت عدو کی ترک الفت ہو نہیں سکتیہمارے حال پر تیری عنایت ہو نہیں سکتیفروغ حیدرآبادی
- مچلتی ہے مرے سینے میں تیری آرزو کیا کیالیے پھرتی ہے تیری چاہ مجھ کو کو بہ کو کیا کیافروغ حیدرآبادی
- وار اور پھر وار کس کا آپ کی تلوار کااب رفو مشکل سے ہوگا زخم دامن دار کافروغ حیدرآبادی
- ہو ترقی پر مرا درد جدائی اور بھیاور بھی اے بے وفا کر بے وفائی اور بھیفروغ حیدرآبادی