Poetry
- جب تک کہ دل میں جذبۂ دیوانگی نہ ہولذت کش حیات وفا بے خودی نہ ہوDaud Nishat (1929–1992)
- روشنی کب تھی مرے داغ جگر سے پہلےاس نے پائی ہے ضیا شمس و قمر سے پہلےDaud Nishat (1929–1992)
- زندگی کو موت کی زد پر جو لا سکتا نہیںموت کے آغوش میں وہ مسکرا سکتا نہیںDaud Nishat (1929–1992)
- سکون دل کو نظر کو مری قرار نہیںیہ ایک مرگ مسلسل ہے انتظار نہیںDaud Nishat (1929–1992)
- کب ہوس کاروں نے دنیا کے دہانے دیکھےڈوبنے کے جو تھے دنیا میں ٹھکانے دیکھےDaud Nishat (1929–1992)
- لغزش سے رہنماؤں کی جب ہم سنبھل گئےمنزل قریب آئی تو رستے بدل گئےDaud Nishat (1929–1992)
- مانا رہ حیات میں تنہا حیات ہےمحسوس ہو رہا ہے کوئی ساتھ ساتھ ہےDaud Nishat (1929–1992)
- محدود ہے یہ وسعت عالم بھی نظر میںگم ہو گیا ہوں ایسا تری راہ گزر میںDaud Nishat (1929–1992)
- مرا وجود سمندر نہیں میں قطرہ ہوںہر ایک موج کی آغوش میں مچلتا ہوںDaud Nishat (1929–1992)
- وہ مرا کثرت انوار سے حیراں ہوناہر طرف طور بکف ان کا نمایاں ہوناDaud Nishat (1929–1992)